خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 373
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے بے شک ان سے بعض غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور میں نہیں سمجھتا ممبران کمیشن جیسے تجربہ کار اور علم والے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ اُن سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی یا کسی شخص کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اُس سے غلطی نہ ہوگی۔تمام انسانوں سے مکمل انسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے مگر آپ نے بھی فرمایا ہوسکتا ہے کہ میں ایک فیصلہ کروں اور غلطی سے ایک کا حق دوسرے کو دے دوں مگر اس طرح دوسرے کا حق اس کے لئے جائز نہ ہو جائے گا بلکہ وہ اُس کے لئے آگ کا ٹکڑا ہوگا ہے پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی اجتہادی غلطی کر سکتے ہیں تو کمیشن کے سمجھدار، تجربہ کار اور علم والے لوگ کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ان سے بھی غلطی کا امکان ہے اور ان سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر باوجود اس کے جو کام انہوں نے کیا ہے اُسے مد نظر رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پہلی دفعہ یہ کام کیا گیا ہے جس کے لئے انہوں نے پوری محنت کی ہے، کافی وقت صرف کیا ہے اور ایک لمبی رپورٹ مرتب کی ہے، جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں اور دوسروں کے لئے نمونہ ہیں۔اگر وہ اصحاب بھی جو کمیشنوں اور کمیٹیوں کے لئے نامزد ہوا کریں اِسی طرح کام کیا کریں تو تھوڑے عرصہ میں بہت سے احباب کو سلسلہ کے حالات سے کافی واقفیت ہو جائے اور اگر کوئی کسی بات پر اعتراض کرے تو واقفیت کی بناء پر وہ خود جواب دے سکیں۔افسوسناک امر وہ امر جو میرے کانوں میں پڑا، ابھی تحقیق طلب ہے اس لئے میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اس کی وجہ سے میں اُس جوش سے کمیشن کی تعریف نہیں کر سکتا جس سے کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ بات صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن کے ممبروں کا تو حق ہے کہ دوسرں پر جرح کریں لیکن خلیفہ کا حق نہیں کہ ان پر جرح کرے اور اگر یہ درست ہے تو پھر خلافت فضول ہے اور ہم اُسی مقام پر آ جاتے ہیں جس پر غیر مبائعین ہیں اور خلیفہ کی بیعت کرنی فضول ہے۔خلافت کے معنی ہیں نبوت کا قائم مقام درجہ۔اور خلیفہ کا فیصلہ اسی طرح تسلیم کرنا ضروری ہے جس طرح نبی کے فیصلہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَلَا وَرَتِكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ