خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 367
خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کام پر لگا دیا جائے اور اس پر جو نفع آئے وہ بھی مدرسہ بنات کا ہی ہوگا۔امید ہے اسی سال کے اندر اندر ترجمہ فروخت ہو جائے گا اور دسمبر تک نہ صرف اصل رقم وصول ہو جائے گی بلکہ نفع بھی حاصل ہو جائے گا۔اس عرصہ میں ٹرینڈ اُستانیوں کے لئے کوشش کی جا رہی ہے اور امید ہے مل بھی جائیں گی کیونکہ بعض احمدی خواتین پڑھ رہی ہیں اور جب سکول گورنمنٹ نے منظور کر لیا تو امداد بھی حاصل ہو جائے گی۔9 ہزار کے قریب ہماری جمع کردہ رقم ہو جائے اور 9 ہزار گورنمنٹ دے دے تو عمارت تیار ہوسکتی ہے۔انگریزی ترجمۃ القرآن قرآن قرآن کریم کے انگریزی ترجمے کے متعلق ابھی تک میں نہیں کہہ سکتا کہ کب چھپے۔ابھی پندرہ پاروں پر نظر ثانی ہوئی ہے باقی پندرہ پر نہیں ہوئی۔میں امید کرتا ہوں مولوی شیر علی صاحب جلد اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ میں قرآن کریم کے نوٹوں سے فارغ ہو کر انگریزی ترجمہ قرآن کے دیباچہ کی تحریر میں مشغول ہوسکوں۔کمیشن کی رپورٹ سب سے مقدم چیز جسے آج میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ وہ رپورٹ ہے جس کے لئے پچھلے سال کمیشن مقرر کیا گیا تھا اور جس نے وہ مرتب کی ہے۔اس کے بعض امور کے متعلق کمیشن کے ممبروں کی طرف سے خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ میں اپنے خیالات ظاہر کرنے سے پہلے ان سے تبادلۂ خیالات کرلوں مگر کمیشن کے دو ممبر ابھی تک نہیں آئے۔میں ظہر کے وقت تک ان کا انتظار کرتا رہا۔کمیشن کے پریذیڈنٹ صاحب آئے ہیں مگر وہ بھی آخری ٹرین میں آئے ہیں اس لئے ان سے بھی گفتگو نہ ہو سکی لیکن جو دقت خیال کی جاتی ہے وہ میں نے حل کر لی ہے اس لئے ان سے کسی مزید مشورہ کی ضرورت نہیں اور میں اپنا فیصلہ بیان کر دوں گا۔مجلس شوری کے متعلق دو فیصلے لیکن میں اس سے پہلے مجلس شوری سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے پچھلے طریق عمل کی وجہ سے میں نے دو فیصلے کئے ہیں۔میں نے مجلس مشاورت کی بنیا د رکھتے ہوئے شروع میں ہی کہا تھا کہ ابھی سے اس کے متعلق قواعد بنانے مفید نہ ہوں گے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بعد میں تجربہ سے ہمارے لئے مشکلات کا باعث ثابت ہوں۔پہلے یونہی کام چلنے دینا چاہئے اور جو جو حالات