خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 15
خطابات شوری جلد اول ۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء چلنے کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں لیکن خلیفہ کی کوئی ذاتی جائداد نہیں ہوتی اور اس کے ذاتی فوائد بھی نہیں ہوتے کہ فساد کریں ۔ نہ آئندہ اولادوں کے لئے خلافت منتقل کر سکتے ہیں کیونکہ خلفاء کا دستور روکتا ہے اس لئے وہ نقائص گئے جو شخصی حکومت میں ہوتے ہیں۔ جمہوری حکومت پارٹی فیلنگ سے تباہ ہوتی ہے۔ دور ہو اس وقت انگلستان اور فرانس بھی جو تباہی کی طرف جا رہے ہیں پارٹیوں کی وجہ سے ہی جارہے ہیں مگر اسلام نے ایسا طریق رکھا ہے کہ تباہی نہیں ہو سکتی ۔ اسلام سے ملتا جلتا ظاہری نظام رومیوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہزار سال سے زیادہ سے چلا آ رہا ہے لیکن اور کوئی حکومت ایسی نہیں جو اتنے لمبے عرصہ سے ایک طریق پر قائم ہو۔ مگر ان میں بھی نقص ہے کہ شریعت کو لعنت قرار دیتے ہیں اس لئے پوپ جو چاہے مذہب بنا دیتا ہے اس لئے انتظام تو چلا جا رہا ہے مگر نقص یہ ہے کہ چونکہ مذہب کا فیصلہ پوپ کی رائے پر ہوتا ہے اس لئے مذہب باطل ہو گیا اور اسمیں دست اندازی سے لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ مگر اسلام میں ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن مجید ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام موجود ہے، ان حد بندیوں کے اندر خلیفہ کام کر سکتا ہے ان سے باہر نہیں جا سکتا۔ پس اس طرح اس نے تمام نقائص مٹا دیئے اور ضروری باتوں کو جمع کر دیا ۔ ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اصولی باتیں خدا نے طے کر دیں جو ایسی جامع ہیں کہ کوئی کمی باقی نہیں رہ گئی اور تفصیل رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمادی۔ اسی لئے ایک یہودی نے کہا تھا کہ دین تو اسلام ہی سچا ہے کہ پاخانے تک کے مسئلے بیان کر دیئے ہیں اور کوئی بات نہیں چھوڑی۔ فی الواقع یہ قابلِ رشک بات ہے۔ جرمنی سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے اس کا مصنف لکھتا ہے اسلام کے متعلق خواہ کچھ کہیں مگر بڑا مکمل مذہب ہے کہ کوئی بات نہیں چھوڑی۔ پس چونکہ پارٹی ہوتی نہیں اور خلیفہ سب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اُس کا تعلق سب ر پڑتے ہیں مر باپ سے لڑائی ہیں ہو سے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے باپ بیٹے کا۔ بھائی بھائی تو لڑ پڑتے ہیں مگر باپ سے لڑائی نہیں : سکتی ۔ چونکہ خلیفہ کا سب سے محبت کا تعلق ہوتا ہے اس لئے اگر ان میں لڑائی بھی ہو جائے تو وہ دور کر دیتا ہے اور بات بڑھنے نہیں پاتی ۔