خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 362

خطابات شوری جلد اوّل ۳۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء متعلق کیا کیا جائے؟ اگر یہ مسئلہ ایسا ہوتا جو عورتوں سے تعلق رکھتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق پہلے اُم سلمہ سے پوچھتے اور پھر مردوں کے پاس جاتے۔مگر آپ پہلے مردوں کے پاس گئے۔جب اُنہوں نے نہ مانا تو پھر آ کر اُم سلمہ سے پوچھا کہ کیا کیا جائے؟ ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض نے کہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ وقت میں عورتوں کا حق نمائندگی والسلام کے وقت عورتوں کے حقوق کا سوال اُٹھا مگر آپ نے اس کے متعلق کچھ نہ فرمایا مگر یہ صحیح نہیں ہے۔سفر بجٹ " (SUFFRAGETTE) کا سوال بعد میں اُٹھا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ عورتیں بول نہ سکیں گی اور تقریریں نہیں کر سکیں گی۔اگر رائے دینے کے لئے اسے بنیاد قرار دیا جائے گا تو کل جب تقریر کرنے والی عورتیں آئیں گی اُس وقت کیا کرو گے۔اگر اُس وقت اس بات کو ماننا ہے تو پھر یہی کہو کہ ابھی یہ حق نہ دیں گے جب سال دو سال بعد عور تیں تقریریں کر سکیں گی اُس وقت دیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح مرد کو دماغ اور عقل دی گئی ہے اسی طرح عورت کو بھی دی گئی ہے اور جہاں مرد کو حکم ہے کہ علم سیکھے وہاں عورت کو بھی حکم ہے کہ علم سیکھے۔یہ ساری باتیں ماننے کے بعد کہنا کہ عورتوں کی زبان پر تالا لگا دیا جائے یہ غلط بات ہے۔درمیان قعر دریا تخته بندم کرده ای باز میگوئی که دامن ترمکن ہشیار باش اگر عورتوں کو مشورہ دینے سے خدا تعالیٰ نے محروم کرنا ہوتا تو دماغ اور عقل سے بھی ان کو محروم کر دیتا۔خدا تعالیٰ جو چیز دیتا ہے اس کے استعمال کا موقع بھی دیتا ہے۔یہاں مجلس مشاورت میں جتنے امور کا فیصلہ ہوتا ہے اُن کا تعلق عورتوں سے بھی ہوتا ہے۔مثلاً چندہ کا سوال ہے، اس سال آٹھ نو ہزار کے قریب عورتوں نے چندہ دیا ہے۔عورتوں کی نمائندگی کس طرح ہو؟ میرے نزدیک یہ مسئلہ شرعی نہیں بلکہ عقلی ہے اور عقلی طور پر کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ کیوں اسے قبول نہ کریں۔میرا خیال یہ ہے کہ جو اہم امر ہے اُسے کمیٹی نے نظر انداز کر دیا