خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 14
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صدر انجمن کے بنتے ہی پارٹیاں بن گئیں اور اس کا نتیجہ جو نکلا وہ ظاہر ہے۔گواب وہ لوگ نکل گئے ہیں مگر انجمن کے نام کے ساتھ ایسے احساسات لگے ہوئے ہیں کہ لوگ اس اثر کو دور نہیں کر سکتے۔اگر چہ انجمن کے سارے ممبروں نے بیعت کی ہوئی ہے اور مخلص ہیں مگر اس میں بھی اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔کچھ عرصہ ہوا میرے پاس ایک وفد انجمن کا آیا کہ فلاں آدمی کو جو باہر بھیجا گیا ہے اس سے انجمن کا حرج ہوتا ہے اس کو اسی کام پر مقرر کر دیا جائے۔میں نے کہا اب میں اسے نہیں بھیجوں گا۔اس کے بعد ایک جگہ کے لوگ آئے کہ ہمارا مقدمہ ہے اس کے لئے اس آدمی کا جانا ضروری ہے۔میں نے کہا میں نے عہد کر لیا ہے کہ میں اسے نہ بھیجوں گا۔مقدمہ والا چونکہ تیز طبیعت کا آدمی تھا اس لئے بہت باتیں کرنے لگا مگر میں نے کہا میں نہیں بھیج سکتا۔اس کے بعد وہ انجمن کے افسر کے پاس گیا اور اس نے بھیج دیا۔میں نے کہا انجمن کی یہی غرض تھی کہ خلیفہ کے کہنے پر نہ جائے ہمارے کہنے پر جائے تو یہ جنگ شروع ہو جاتی ہے۔بعض فوائد بھی ہوتے ہیں مگر مضرات بھی ہیں۔مضرات کو اسلام نے دُور کر دیا ہے اور فوائد کو لے لیا ہے۔اس قسم کی شخصی حکومت کہ باپ کے بعد بیٹا جانشین ہو خواہ نالائق ہی ہو اس کو اُڑا دیا اور یہ رکھا کہ سب کی رائے سے ہو اور جب مقرر کر دیا تو اس کے لئے مشورہ رکھا تا کہ لوگ پارٹیاں نہ بنائیں اور چونکہ وہ خود اپنا جانشین بیٹے کو بھی بنا نہیں سکتا اس لئے اس کے ایسے فوائد نہیں ہوتے جو وہ پچھلوں کے لئے چھوڑ جائے اور میرے نزدیک شرعاً جائز نہیں کہ خلیفہ بیٹے کو جانشین مقرر کرے۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ کا فیصلہ ہے کہ بیٹا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔بعض نے چاہا کہ آپ اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کر دیں مگر انہوں نے انکار کر دیا ہے پھر خلیفہ کے لئے کوئی اور ایسا درجہ نہیں ہوتا جسے وہ حاصل کرنا چاہے اس لئے مقابلہ اور پارٹی فیلنگ نہیں ہوتا۔اس طرح انجمن کے مضرات کو دور کر دیا گیا۔اب ہندوستان کے رہنے والے کا ہی حق نہیں کہ مسیح موعود کا خلیفہ ہو بلکہ ممکن ہے کہ ایک دوخلیفوں کے بعد ( کیونکہ فی الحال ان میں احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی ) اُس وقت عرب کے لوگوں میں سے کوئی خلیفہ ہو جائے یا حبشیوں میں سے آجائیں تو ان میں سے خلیفہ ہو جائے۔کیونکہ اس کے لئے کسی ملک کسی طبقہ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ہر جگہ کے لوگ ہو سکتے ہیں۔اس طرح اس کو اسلام نے عام کر دیا اور پارٹی فیلنگ کو بھی مٹا دیا۔بادشاہتیں نسلاً بعد نسل