خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 351
خطابات شوری جلد اوّل ۳۵۱ اور یہ دفعہ بھی انہی میں سے تھی جن کے متعلق لکھا ہو ا تھا۔مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کوئی جماعت ان قواعد میں تبدیلی کر کے مذکورہ بالا نظام کو نہیں بدل سکتی اور نہ کوئی خلیفہ وقت ہی اس نظام کے قاعدہ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، نم، دواز دہم، سیز دہم، چہارم دہم، شانزدہم، ہفت دہم، ہشد ہم ، نوز دہم ، بست وہم کو بدل سکتا ہے“۔لیکن جب اس دفعہ کے متعلق گفتگو ہوئی تو مفتی محمد صادق صاحب نے اس کے متعلق یہ ترمیم پیش کی کہ اس میں سے قریبی رشتہ دار“ کے الفاظ اُڑا دیئے جائیں چنانچہ ان کو اڑا کر اس طرح عبارت کر دی گئی ” کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے باپ یا بیٹے۔اسے میں نے منظور کر لیا۔(دیکھور پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء صفحه ۱۰۶) اسی طرح میاں بشیر احمد صاحب نے یہ ترمیم پیش کی ہے کہ :- وو یہ ضروری ہوگا کہ وہ خلیفہ وقت جس کو پہلے خلیفہ نے منصب خلافت کے لئے نامزد کیا ہے، اپنے جانشین کو خود نامزد نہ کرے۔نامز دشدہ خلیفہ کا جانشین صرف مجلس شوریٰ ہی منتخب کر سکتی ہے۔اسے بھی میں نے منظور کر لیا۔(دیکھور پورٹ مذکورہ صفحہ ۱۰۷) اس سے ظاہر ہے کہ دوسری دفعات میں بھی گفتگو کے بعد مناسب تغیر کیا جا سکتا تھا اور ان میں تغیر نہ ہونے کی صورت وہ ہوتی جو مجلس مشاورت کے مشورہ کے بعد قرار پاتی۔اصل بات یہ ہے کہ جب ان معاملات پر بحث ہوئی تو مجلس نے کہا کہ ان امور کو اگر ابھی پاس کر دیا گیا تو یہ ایسے قوانین قرار پا جائیں گے جو جماعت کے دستور العمل میں شامل ہو جائیں گے۔جب ان امور کو اتنی اہمیت حاصل ہوئی ہے تو ان پر غور کرنے کے لئے بہت وقت ملنا چاہئے اور علماء نے کہا کہ سوائے شرعی امور کے دوسری باتوں کے لئے پابندی عائد نہیں کرنی چاہئے۔اس دستور العمل میں فقہی امور کا بھی ذکر آتا ہے اور میں نے لکھا ہے کہ فقہی امور میں ایک شخص خلیفہ سے اختلاف رکھ سکتا ہے۔پس جب ایک شخص فقہی امور میں خلیفہ سے اختلاف رکھ سکتا ہے تو دوسرا خلیفہ پہلے خلیفہ سے کیوں ایسے امور میں اختلاف نہیں رکھ سکتا۔