خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 350
خطابات شوری جلد اوّل " ۳۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء شیخ یعقوب علی صاحب نے ایک سوال اُٹھایا تھا اس کا فیصلہ تو کر دیا گیا تھا مگر میں اس کے متعلق کچھ اور بیان کرنا چاہتا ہوں۔شیخ صاحب کا جو اعتراض تھا وہ بالکل نرالا تھا۔کانسٹی ٹیوشن جب بنائی جاتی ہے تو بنانے والا یہی لکھتا ہے کہ یہ نہیں بدلی جاسکتی۔کوئی دستور اساسی بنانے کا کام کسی کے سپر د کریں وہ جب تجویز کرے گا تو لازماً یہی لکھے گا کہ اس کی فلاں فلاں دفعات بدلی نہیں جاسکتیں۔آگے جب مجلس کے سامنے پیش کرے تو وہ کہہ دے فلاں فلاں بات کے متعلق تو لکھا ہے کہ بدلی نہیں جاسکتی ، پھر غور کیا کیا جائے ؟ دراصل وہ تجویز اور ڈھانچہ ہوتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کے متعلق جو تجویز پاس ہوگی وہ نہ بدلی جائے گی۔عقلاً تو ان الفاظ کا جو شیخ صاحب نے ۱۹۲۴ء کی رپورٹ سے پیش کئے ہیں یہ مفہوم ہے۔دیکھونہر ور پورٹ جو تجویز ہوئی ہے اس کی بعض دفعات کے متعلق لکھا ہے کہ یہ نہ بدلی جائیں گی مگر بڑی کمیٹی نے ان میں تغیر کر دیا۔غرض جو دستور تجویز ہو اُس میں یہی لکھا جاتا ہے لیکن اس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ مشورہ اور غور کے بعد جو صورت تجویز ہو وہ نہ بدلی جائے گی یہی مفہوم ان دفعات کا ہے جو شیخ صاحب نے پیش کی ہیں۔باقی عملی طور پر اس مفہوم کا ثبوت اِس سے مل سکتا ہے کہ اسی مجلس میں وہ ڈھانچہ بدلا گیا جو میں نے تجویز کیا تھا اور میں نے خود بدلا چنانچہ اس دستور کی دفعہ 4 ایہ تجویز کی گئی تھی کہ کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقر ر نہیں کر سکتا۔نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوریٰ اس کے کسی ایسے رشتے دار کو اُس کا جانشین منتخب کر سکتی ہے۔نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضاحنا یا اشارتاً اپنے مذکورہ بالا رشتے داروں میں سے کسی کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے۔اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شوریٰ کا فرض ہو گا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادانہ طور سے ایک خلیفہ حسب قواعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ نا جائز تھی وہ مستر دسمجھی جائے گی“۔