خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 346

خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء انگلستان میں تقریریں کرتا تو شکایت کرتا کہ ۱۸ سے زیادہ آدمی اس کے لیکچر میں نہ آتے لیکن امریکہ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اس کثرت سے لوگ آتے کہ بیٹھنے کے لئے جگہ نہ ملتی۔انگلستان میں مشہور شاعر ٹیگور کے لیکچروں کا انتظام کیا گیا جن میں زیادہ سے زیادہ ۷۰ آدمی آئے۔مگر پہلا لیکچر جو انہوں نے امریکہ میں دیا اس کے سننے کے لئے لوگ دروازے توڑتے رہے۔مجھے کہا گیا آپ امریکہ چلیں، آپ کو ۱۳ ساتھیوں کا خرچ خود دیا جائے گا اور باقی سارا خرچ بھی۔وہاں لوگ رقمیں دے دے کر لیکچر دینے کے لئے بُلاتے ہیں۔ماسٹر محمد دین صاحب کے زمانہ میں بھی لوگ بلاتے رہے گو انہیں زیادہ ملنے کی عادت نہیں۔مفتی صاحب کو ۴۰/۵۰ ڈالر ماہوار آ جاتے تھے۔“ میرے نزدیک مغرب سے سورج نکلنے میں امریکہ کا بہت تعلق ہے۔چندہ کی کمی کی ذمہ داری بہت حد تک بیت المال پر ہے۔میں نے دفتری تحقیقات کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے اس کی تحقیقات سے معلوم ہو سکے گا کہ میری رائے صحیح ہے یا غلط۔ایک وجہ چندہ کی کمی کی قحط بھی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر سال قحط ہو مگر میں پھر بھی کہوں گا کہ ریز رو فنڈ ضرور ہونا چاہئے۔باقی ہر سال تین مبلغ مقرر کرنے کے متعلق جو فیصلہ ہے ان کے نہ رکھنے کی ایک سال کے لئے اجازت دے دیتا ہوں مگر آئندہ کے لئے کہتا ہوں کہ جس امر کا فیصلہ مجلس شوریٰ میں پیش ہو کر ہو چکا ہو اُس کے خلاف تجویز پیش کرنے کی اجازت مجھ سے لینی چاہئے۔وہ میرا فیصلہ نہ ہو گا۔فیصلہ تو شوریٰ میں اس معاملہ کو پیش کرنے کے بعد ہی کیا جائے گا مگر اس امر کو پیش کرنے کے لئے مجھ سے اجازت لینی ضروری ہے۔“ تیسرا دن ۳۱ مارچ ۱۹۲۹ء کی مجلس مشاورت میں حضرت خلیفہ المسیح " کی طرف سے درج ذیل تجویز اور اس کے بارہ میں سب کمیٹی تعلیم و تربیت کی رپورٹ پیش ہوئی۔بعض سرکاری فوجی ملازمتوں میں ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ملازم داڑھیاں منڈوائیں جو مسلمانوں کے لئے مذھباً جائز نہیں۔لہذا اس کے متعلق غور کیا جائے کہ کیا کارروائی کی جاسکتی ہے۔رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے فرمایا :- دد ،