خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 336
خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ”سب کمیٹی کی تجویز کی تشریح ناظر صاحب نے کر دی ہے۔اگر اب دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں ورنہ رائے لی جائے۔“ چند دوستوں کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا : - ایک بات کے متعلق دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے اور وہ اس وجہ سے کہ انہوں نے قضاء اور پنچائت میں فرق نہیں سمجھا۔قضاء کے لئے تو ایسے قاضی کی ضرورت ہوتی ہے جو شریعت کا واقف ہو اور قانون بھی جانتا ہو مگر پنچائت میں ایسے آدمی کی ضرورت ہوتی ہے جو بارسوخ ہو اور جس کی بات مانی جاتی ہو۔یہ ناممکن ہے کہ قاضی کسی ایسے شخص کو مقرر کیا جائے جو شریعت سے پوری طرح واقف نہ ہو اور جس کا صرف سیاسی اور تمدنی اثر ہو۔قاضی وہی مقرر ہو سکے گا جسے یہ معلوم ہوگا کہ مدعی کے کیا حقوق ہیں اور مدعا علیہ کے کیا۔پنچائت کے لئے یہ ضروری نہیں کیونکہ پنچائت کے ممبروں نے اپنے اثر و رسوخ سے کام لینا ہے۔انہوں نے فیصلہ شریعت کے مقررہ حقوق پر نہیں دینا بلکہ جھگڑے والوں کی مرضی پر دینا ہے اور یہ کوشش کرنی ہے کہ انہیں راضی کیا جائے۔جیسے مثلاً پنچ سمجھ لیں کہ فلاں نے سو روپیہ دینا ہے مگر جھگڑا مٹانے کے لئے وہ کہہ دیتے ہیں اچھا نوے (۹۰) روپیہ دے دو لیکن اگر قضاء فیصلہ کرے گی تو وہ پورے روپے ادا کرنے کے متعلق کرے گی۔اب سوال یہ ہے علاوہ قضاء کے اس قسم کا پنچائت کا انتظام ہونا چاہئے یا نہیں ؟ جو سب کمیٹی نے تجویز کیا ہے۔“ اس کے بعد رائے شماری ہوئی کثرت نے تجویز کی تائید کی۔اس پر حضور نے فرمایا : - چونکہ دوستوں کی کثرت اس تجویز کی تائید میں ہے اور معاملہ ایسا اہم نہیں اور فیصلہ تجربہ سے اس کی حقیقت معلوم ہوگی اس لئے میں اسے منظور کرتا ہوں۔“ انگریزی یا پنجابی میں تقریر اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں تقریر کرنے کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - بعض دوستوں نے لکھا ہے وہ پنجابی نہیں سمجھ سکتے اور وہ اردو میں تقریر نہیں کر سکتے۔وہ اگر چاہیں تو انگریزی میں تقریر کر لیں۔انگریزی دان اصحاب اُن کی تقریر سمجھ لیں گے۔اگر ضرورت ہوئی تو اُن کی تقریر کا دوسروں کو ترجمہ سُنا دیا جائے گا۔اسی طرح جو پنجابی میں