خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 333

خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہی رائج تھا کہ جب نکاح پڑھا جاتا تو ساتھ ہی مہر دے دیا جاتا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کے وقت پوچھا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اُس نے کہا کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا انگوٹھی بھی نہیں۔اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا سونے چاندی کی انگوٹھی نہ سہی لوہے کی بھی نہیں؟ اُس نے کہا یہ بھی نہیں، قرآن کی چند سورتیں یاد ہیں۔آپ نے فرمایا۔اچھا وہی اپنی بیوی کو یاد کرا دینا۔اگر مہر کو بعد پر رکھنا ہوتا تو آپ فرما سکتے تھے کہ اگر آج تمہارے پاس کچھ نہیں تو پھر کما کر اُسے مہر دے دینا۔اصل یہی ہے کہ جو حیثیت ہو اُس کے مطابق مہر کی رقم ادا کر دی جائے۔عورت اسے اپنی بہتری کے لئے جس طرح چاہے خرچ کرے۔ایسا مہر جو مرنے کے بعد وصول ہو یا کبھی وصول ہی نہ ہو شرعی مہر نہیں ہے۔میں نہیں سمجھتا معجل اور غیر معجل کی تشریح نہ ہو تو مہر کے متعلق کوئی نقص باقی رہ جاتا ہے۔جو شخص شریعت کی پابندی کا اقرار کرتا ہے وہ یہی تسلیم کرتا ہے کہ عورت کا حق اُسی وقت قائم ہو جاتا ہے جبکہ نکاح ہوتا ہے۔نصف وہ اُسی وقت لینے کا حق رکھتی ہے اور نصف اُس وقت جب میاں بیوی مل جائیں۔اس کے بعد اگر اُسے طلاق دی جائے تو وہ پورا مہر لے سکتی ہے۔پس میں نہیں سمجھتا مقتبل اور غیر معجل کی ترمیم کے ساتھ کیا منوانا چاہتے ہیں۔اب تجویز یہ ہے کہ نکاح کی شرائط کے لئے فارم میں خانہ بڑھا دیا جائے تا کہ اگر ہوں تو وہاں لکھی جائیں۔مہر کا خانہ بھی رکھا جائے۔اس کی تشریح شرائط میں آجائے گی۔جو دوست اس کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ کثیر التعداد اصحاب نے کھڑے ہو کر اس کی تائید میں رائے دی۔فرمایا : - فیصلہ ” دوستوں کی کثیر تعداد فارم کی تائید میں ہے جن دوستوں کے دلوں میں اس کے متعلق شبہات ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے بیشک بعض جگہ دقتیں پیش آئیں گی اور لڑکیوں کے لئے مشکل ہوگا کہ فارم پُر کریں۔مگر ان کے لئے یہ فارم نہ ہوگا۔دوستوں نے کثرتِ رائے سے جو مشورہ دیا ہے میں اِسے پسند کرتا ہوں اور دفتر کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس پر عمل کیا جائے۔مجھے خود ذاتی طور پر اس بارے میں تکلیفیں پیش آتی ہیں۔میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ جن سے مجھے ذاتی واقفیت ہوگی اُن کے نکاح کا اعلان کروں گا۔وجہ یہ