خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 332
خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء دوسرا دن نکاح فارم کی ضرورت مجلس مشاورت کے دوسرے روز ۳۰ / مارچ ۱۹۲۹ء کو سب کمیٹی " نظارت امور عامہ کی طرف سے نکاح فارم کے اجراء کی تجویز پیش ہونے اور اس سے متعلق بعض احباب کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا : - پہلا سوال یہ ہے کہ کس قسم کا فارم جاری کیا جائے یا نہ۔فارم کی شکل کے متعلق نہ گفتگو ہوئی اور نہ اس پر رائے لی جائے گی۔جس امر کے متعلق رائے لی جائے گی وہ صرف یہ ہے کہ جو ضرورت امور عامہ نے پیش کی ہے اُس کے لئے کوئی فارم ہونا چاہئے یا نہیں۔جیسا کہ بیان کیا گیا ہے یہ نہیں کہ ہر نکاح کے لئے ایسا فارم پُر کرنا ضروری ہوگا بلکہ یہ صرف بعض موقعوں پر فتنوں سے بچنے کے لئے رکھا گیا ہے۔نکاح پڑھانے والے اگر ضرورت سمجھیں تو پُر کریں لیکن ایک موقع ایسا ہے جس پر امور عامہ نے اس فارم کا پُر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور وہ یہ کہ جب لڑکا اور لڑکی یہاں نہ آئیں یا دونوں میں سے کوئی ایک نہ آئے اور اُن کے ورثاء یہاں نکاح پڑھوانا چاہیں۔جو دوست ایسی صورت میں استعمال کرنے کے لئے فارم تجویز کرنا ضروری سمجھیں وہ کھڑے ہو جائیں۔بہت بڑی کثرت ہونے کی وجہ سے آراء شمار نہ کی گئیں اور خلاف صرف ۴ را ئیں نکلیں۔اس پر فیصلہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - میں کثرتِ رائے سے اتفاق کرتا ہوں کہ فارم ہونا چاہئے۔“ ہر معجل اور غیر معجل نکاح فارم میں مہر معجل اور غیر مجبل وغیرہ الفاظ کے اندراج سے متعلق امور عامہ کی دو تر میموں کی بابت حضور نے فرمایا: - امور عامہ نے یہ ترمیمیں تسلیم کر لی ہیں مگر میں نہیں سمجھتا پہلی ترمیم کو کیونکر تسلیم کیا گیا ہے۔اس لئے کہ مہر معجل اور غیر متجل کوئی شرعی اصطلاح ہی نہیں ہے۔شریعت نے اس بارے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب نکاح پڑھا جاتا ہے۔لڑکی کا حق اُسی وقت سے قائم ہو جاتا ہے اور مہر کی ادائیگی کی اصل صورت یہی ہے کہ اُسی وقت اُسے دے دیا جائے۔سوائے اس کے کہ لڑکی خود پیچھے ڈالنے پر رضامند ہو۔شرعی طریق رسول کریم صلی اللہ علیہ