خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 331

خطابات شوری جلد اوّل ۳۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کے لئے کتاب کا تحفہ تیار کرنے کے وقت کیا گیا تھا کہ تھوڑے تھوڑے چندہ سے انعام کی رقم جمع کی جائے۔اس لئے میں اس سال کے لیے یہ تجویز کرتا ہوں کہ اوّل درجہ کا انعام دو ہزار افراد کی طرف سے اُس غیر مسلم کو دیا جائے جس کا مضمون رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں سب سے اول رہے اور ایک آنہ فی کس کے حساب سے یہ رقم ۱۲۵ روپیہ جمع کی جائے۔دوسرے درجہ کے مضمون کے لئے انعامی رقم ایک ہزار آٹھ آدمیوں کی طرف سے ایک آنہ فی کس کے حساب سے ۶۳ روپے ہو اور تیسرے درجہ کے مضمون کے لئے ۵۱۲ آدمیوں کی طرف سے فی کس ایک آنہ کے حساب ۳۲ روپے کی رقم ہو۔یہ انعام اگر تمغے یا گھڑی کی صورت میں دیا جائے تو اُن پر لکھ دیا جائے کہ ۲ ہزار مخلص مسلمانوں کی طرف سے یا ایک ہزار آٹھ مخلص مسلمانوں کی طرف سے یا ۵۱۲ مخلص مسلمانوں کی طرف سے آپ کی اس کوشش کے صلہ میں جو آپ نے بانی اسلام علیہ السلام کے متعلق کی ، انعام پیش کیا جاتا ہے۔جوں جوں یہ تحریک مضبوط ہوتی جائے گی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔۳ ہزار افراد کی طرف سے یا چار ہزار افراد کی طرف سے یا پانچ ہزار افراد کی طرف سے یا ۵۰ ہزار، لاکھ، دس لاکھ ، کروڑ افراد کی طرف سے انعام پیش کیا جائے۔اس طرح اس تحریک میں ترقی ہوتی جائے گی اور ایک عرصہ کے اندر ہزاروں ایسے غیر مسلم نظر آنے لگیں گے جن کے سینوں پر وہ تمغے لگے ہوں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کی وجہ سے انہیں حاصل ہوئے ہوں گے۔اس تحریک میں بچے، جوان ، بوڑھے، عورتیں سب شامل ہو سکتے ہیں۔بچے وہی شامل کئے جائیں جنہیں اس بات کی سمجھ ہو کہ کس بات کے لئے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ہمارے گھر کے ۱۲ بچے ہیں۔میں ان کی طرف سے ۱۲ آنے اور ۴ آنے چار غریب بچوں کی طرف سے اس فنڈ میں دیتا ہوں۔“