خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 330

خطابات شوری جلد اول ۳۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء آج کی کارروائی میں سے ہمارے سامنے سب کمیٹیوں کے انتخاب کا سوال باقی ہے چونکہ ایک تحریک ایسی ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کل کے اجلاس میں کسی موقع پر نہیں آسکتی اس لئے اس وقت اس کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وآلہ وسلم کی سیرت کے متعلق جلسوں کی جو تحریک کی گئی ہے اس کے متعلق پچھلے سال ایک دوست نے انعامات دینے کی بھی تجویز کی تھی ۔ انہوں نے خود انعام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے متعلق معلوم ہوا کہ اگر اس تجویز کو عمدگی سے عمل میں لایا جائے تو بہت اثر پیدا کر سکتی ہے۔ گو پچھلے سال اس کے متعلق ایک غلطی بھی ہوئی اور اس وجہ سے ہوئی کہ خیال کیا گیا کہ غریب طبقہ کے لوگ اس تحریک میں حصہ لیں گے اس لئے انعام کی رقم رکھی گئی مگر خدا کے فضل سے اس تحریک میں بڑے بڑے معزز لوگوں نے حصہ لیا اور سب سے اوّل انعام جسے ملا وہ آنریری مجسٹریٹ اور بہت معزز آدمی تھے۔ ان کی پوزیشن کے سے آدمی کے لئے روپیہ بطور انعام کچھ حقیقت نہیں رکھتا تھا اس لئے اس رقم کو تحفہ کی صورت میں بدلنا پڑا ۔ اب آئندہ کے لئے دونوں صورتیں ہونی چاہئیں ۔ ایک غریب آدمی کے لئے نقد روپیہ زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے اور امیر آدمی کے لئے کوئی نشان زیادہ وقعت رکھتا ہے۔ اس لئے اب انعام لینے والے پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کس رنگ میں انعام لینا چاہتا ہے۔ نقد روپیہ یا تمغہ یا کسی اور صورت میں ۔ تا کہ امیر آدمی کو اگر انعام کے طور پر روپیہ پیش کیا جائے تو وہ اس میں اپنی سبکی نہ محسوس کرے۔ گزشتہ سال جن صاحب کو تمغہ دیا گیا وہ رائے بہادر اور آنریری مجسٹریٹ ہیں۔ وہ انعامی تمغہ تو شوق اور خوشی سے لگا لیں گے مگر روپیہ اُن کے نزدیک کوئی وقعت نہ رکھتا تھا۔ اب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرنے میں اس سال غیر مسلموں میں سے سب سے اول رہنے کی وجہ سے انعامی تمغہ پانے پر نہ صرف ساری عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کوئی لفظ نہ کہیں گے بلکہ جہاں ان کے سامنے کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کوئی بات کہے گا اُس کا منہ بند کرنے کی کوشش کیا کریں گے۔ انعام تو انعام کا طریق بہت مفید اور فائدہ بخش ہوسکتا ہے ۔ بجائے جائے اس کے کہ انعام کے لئے ۱۰۰ یا ۸۰ روپے مقرر کریں ۔ اس طرح کرنا چا کرنا چاہئے جس طرح شہزادہ ویلیز