خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 320

خطابات شوری جلد اول ۳۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ترقی ہمارے لئے خوشی اور مسرت کا موجب ہے اسی طرح وہ ہمارے لئے فکر اور تشویش کا بھی باعث ہے۔ تربیت کی ذمہ داریاں جوں جوں احمدی جماعت ترقی کرتی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی جماعت کی تربیت کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ ہمارے فرائض جہاں تبلیغ کے لحاظ سے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ادا ہوتے جارہے ہیں وہاں ایک نئی قسم کے فرائض ہم پر عائد بھی ہو رہے ہیں جو تعلیم و تربیت کے رنگ کے ہیں اس وجہ سے ہمارے لئے اور بھی زیادہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی جارہی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سلسلے قائم کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ خودان کا مددگار ہوتا ہے۔ اپنے فضل سے اُن کی تائید کرتا ہے اور ایک زمانہ تک اُس سلسلہ کے افراد کی کمزوریوں پر بھی پردہ ڈالتا جاتا ہے۔ اُن کی کوتاہیوں سے بھی چشم پوشی کرتا رہتا ہے، اُن کی غفلتوں کو بھی نظر انداز کرتا جاتا ہے، جہاں وہ خدا کے فضل کے مستحق نہیں بھی ہوتے وہاں بھی اپنے فضل کے دروازے اُن کے لئے کھول دیتا ہے کیونکہ وہ اس کے دین کے اول حامل ہوتے ہیں اور اُس کے مذہب کو شائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ان کے اعمال کی اصلاح بھی کرتا جاتا ہے۔ یہی نہیں کہ ان کی کوتاہیوں، ان کی کمزوریوں ، ان کی غفلتوں ، ان کی مستیوں کو نظر انداز کرتا ہے وہ گند اور میل جو سالہا سال کی محنتوں اور دیانتوں سے ڈھل سکتی اسے محض اپنے فضل اور رحمت سے ہفتوں، دنوں ، گھنٹوں ، منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں دھو دیتا ہے اور ان کی روحانی ترقی کے سامان پیدا کرتا جاتا ہے۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی نصرت ہی سلسلہ احمدیہ کی ترقی کا موجب بنے گی۔ اس کی ترقی کے لئے جو کچھ ہم نہیں کر سکتے وہ خدا تعالیٰ کے فرشتے کریں گے جبکہ ہماری غفلتیں ، ہماری کوتا ہیاں ، ہماری مستیاں سلسلہ کی ترقی میں روک نہیں بن سکتیں مگر رات کے زمانہ اور تاریکی کے ایام میں ٹھوکر کا موجب ضرور بن سکتی ہیں ۔ کی نہیں بنی ہو تو تھے صحابہ کی اجتہادی غلطیاں دیکھ صحابہ کی اجتہادی غلطیاں اسلام کی ترقی میں روک نہ بن سیں ، صحابہ کو سیدھے راستہ سے بھٹکانے میں کامیاب نہ ہوسکیں مگر وہ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن گئیں ۔ گویا وہ غلطیاں