خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 313

خطابات شوری جلد اوّل ۳۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء ایسے نقشے کھنچے گئے جو نہایت ہی تکلیف دہ تھے مثلاً یہ بھیا نک نظارہ بنایا گیا کہ دوزخ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑے دکھ اور تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں۔یہ ایک ایسے مسلمان کے لئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب و احترام کرتا ہے نہایت ہی تکلیف دہ با تیں تھیں۔وسعت حوصلہ کی حد وسعت حوصلہ ایک چیز ہے مگر اس کی بھی ایک حد ہے۔سب سے بڑھ کر وسعت حوصلہ دکھانے والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔آپ ایک دفعہ بازار میں جارہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو دھکا دے کر گرا دینا چاہا بعض دوست اُس شخص کو مارنے لگے مگر آپ نے فرمایا جانے دو اور آپ نے چُھڑا دیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی روایت ہے کہ ایک دفعہ سخت طاعون پڑی اور بہت سے لوگ مرنے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت درد سے یہ دعا کرتے کہ الہی ! اگر سارے لوگ مر گئے تو ہدایت کون پائے گا یعنی جس کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ نے طاعون کا عذاب نازل کیا وہی خدا تعالیٰ کے حضور کہتا ہے اگر یہ لوگ ہلاک ہو گئے تو پھر ہدایت کون پائے گا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وسعت حوصلہ کا ایک طرف تو یہ حال تھا مگر دوسری طرف لاہور اسٹیشن پر جب ایک ایسے شخص نے آ کر آپ کو سلام کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا تو آپ نے اُس کی طرف توجہ بھی نہ کی اور اُس سے منہ پھیر لیا۔وہ دوسری طرف پھرا اور پھر اُس نے سلام کیا مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہ کی۔تب بعض احمد یوں نے توجہ دلائی کہ حضور لیکھر ام سلام کر رہا ہے۔آپ نے فرمایا میں اس کے سلام کا کیا جواب دوں، یہ میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور میں جو اُس کا غلام ہوں، مجھے سلام کرتا ہے !! جس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہو اور وہ آپ کے متعلق غیرت رکھتا ہو وہ آپ کے متعلق بد زبانی سُن کر بے تاب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اگر ہمیں واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے اور ہم ہر روز جو آپ پر درود پڑھتے ہیں اگر اس میں ایک شمہ بھر بھی صداقت ہے تو ہم اُس وقت تک صبر نہیں کر سکتے جب تک قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت دُنیا میں قائم نہ