خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 302

خطابات شوری جلد اوّل ۳۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء دُنیا میں آجکل ہر کام کو سپیشلسٹ یعنی اس کام کے ماہر کرتے ہیں۔تبلیغ کے معاملہ میں ہمیں بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ہر طبقہ ، ہر خیال اور مذاق کے لوگوں کو سمجھانے کے ذرائع مختلف ہوتے ہیں اور جب تک ہر طبقہ کے لوگوں کو سمجھانے والے سپیشلسٹ نہ ہوں، اُس طبقہ کے لوگوں کے جذبات کو اپیل نہیں کر سکتے۔روس کی حکومت نے اس اصل کے ماتحت پراپیگنڈہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ساری حکومتیں اس کے پراپیگنڈہ سے کانپ رہی ہیں۔وجہ یہ کہ ان لوگوں نے ہر طبقہ کے لوگوں کے خیالات ، حالات اور ان کی اُمنگوں کا مطالعہ کیا اور اس کام کے لئے ہر ملک میں الگ ماہر مقرر کئے۔ہندوستان کے لئے انھوں نے الگ آدمی مقرر کئے، ایران کے لئے الگ، اسی طرح ہر ملک کے لئے الگ الگ آدمی مقرر کئے جو وہاں پراپیگینڈہ کریں۔مالداروں میں پراپیگنڈہ کرنے کے لئے الگ مقرر کئے ، مزدورں میں پراپیگنڈہ کرنے کے لئے الگ اور عوام میں پراپیگنڈہ کرنے کے لئے الگ۔باوجود اس کے کہ اُن کا قانون یہ ہے کہ مالداروں کو تباہ کیا جائے مگر انھوں نے مالداروں میں پراپیگنڈہ کرنے والے ایسے ماہر مقرر کئے کہ امراء اُن کے ساتھ مل گئے اور اُن کو اپنا خیر خواہ سمجھنے لگ گئے تو ہر طبقہ میں کام کرنے والے الگ ہونے چاہئیں۔اس بات کو مد نظر رکھ کر اور موجودہ حالات کو دیکھ کر ضروری ہے کہ امراء میں تبلیغ کرنے کے لئے آدمی تیار کئے جائیں۔وہ ایسے رنگ میں سٹڈی کریں کہ امراء کے حالات، ان کے احساسات اور ان کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں تبلیغ کر سکیں۔یہ اصل سوال تھا اس پر یہ کہنا کہ ایسا خاص طبقہ ہو جائے گا ، یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کوئی کہے کسی کو ڈاکٹر اور کسی کو ڈپٹی نہ بنایا جائے کیونکہ ڈاکٹر کے دماغ میں یہ بات آئے گی کہ میں ڈاکٹر ہوں اور ڈپٹی سمجھے گا کہ میں ڈپٹی ہوں اور اس طرح اختلاف پیدا ہو جائے گا۔کیا اس وجہ سے ڈاکٹر اور ڈپٹی نہ بنائے جائیں گے؟ ایک مبلغ جو ۱۲ ماہ عام تبلیغ میں مصروف رہتا ہے وہ اس بات کے لئے سٹڈی نہیں کر سکتا کہ امراء میں تبلیغ کرنے کا رستہ نکالے مگر جو اس کام کے لئے مقرر ہوگا وہ اس بات پر غور کرے گا کہ احمدیوں کا جتھہ مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح نقصان ہو رہا ہے۔اس وجہ سے اس کا نقطہ نگاہ ہی اور ہو گا۔وہ یہ سٹڈی نہیں کرے گا کہ کس حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسی