خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 295
خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء سلسلہ اُٹھائے تو یہ بہت مشکل بات ہے اور اگر نہ اُٹھائے تو احمدیوں کی اولا دخراب ہوتی ہے اور پھر دوسرے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کر بد دلی کا باعث بنتا ہے کہ جس طرح اوروں کی اولا د خراب ہو رہی ہے اُسی طرح جب ہم مر گئے تو ہماری اولا د بھی خراب ہوگی ، یہ ایک وقت ہے۔دوسری دقت یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو عارضی ضرورتوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔چونکہ وہ سود نہیں دینا چاہتے اس لئے اُنھیں بنک وغیرہ سے قرض نہیں مل سکتا اور دقت پیش آتی ہے۔پھر جماعت کے لوگوں کے پاس اتنا روپیہ نہیں ہے کہ اِس طرح ایک دوسرے کو قرض دے سکیں اور اگر روپیہ ہو بھی تو پھر ایسے قرضہ کے وصول کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔پس یہ بھی ایک ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو جائز ضرورت کے وقت کس طرح قرضہ مل سکے۔تیسری ضرورت یہ ہے کہ بعض لوگوں میں قابلیت ہے کہ کوئی کام کر سکیں۔انھیں عارضی قرضہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مستقل ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ سال کے لئے قرضہ مل جائے تا کہ وہ کوئی کام چلا سکیں۔چوتھی ضرورت یہ ہے اور یہ تاجروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہے گو تاجروں کا ذہن اس طرف گیا نہیں حالانکہ میں نے اس سب کمیٹی میں اسی لئے تاجروں کو رکھا تھا ان کو بسا اوقات ایک دو ماہ کے لئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک تاجر منڈی کی حالت کو دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے کہ اگر میں آج یہ مال خرید لوں تو ایک دو ماہ کے بعد دو گنا نفع حاصل ہو جائے گا۔ایسے موقع پر سُود دینے والا تو بینک میں جائے گا اور روپیہ لے آئے گا۔وہ خود بھی فائدہ اُٹھائے گا اور بینک کو بھی اصل معہ سُود واپس کر دے گا مگر سُود نہ دینے والوں کے لئے قرض حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔قادیان میں ہم نے ہندوؤں سے تجارت میں مقابلہ شروع کیا اور خیال تھا کہ ساری تجارت احمدیوں کے ہاتھ میں آجائے گی۔مگر ہمیشہ یہ سوال اُٹھتا تھا کہ احمدی ہندوؤں کی نسبت گراں بیچتے ہیں۔ہم لوگوں کو حکم دیتے کہ احمد یوں ہی سے خرید و مگر بعض ایسے بھی تھے جو دوسری جگہ فائدہ دیکھ کر وہاں سے خرید لیتے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک کامیاب ہو گئے ہیں مگر بڑی مجبوریوں اور