خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 296

خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء مشکلات میں سے گزرتے ہوئے اور بڑی محنتوں اور کوششوں کے بعد۔ایک طرف ہم ہندوؤں کا بائیکاٹ نہ کر سکتے تھے کیونکہ یہ شرعاً اور قانوناً ناجائز ہے دوسری طرف احمدی دُکانداروں کے متعلق گراں فروشی کا اعتراض ہوتا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہندو روپیہ ہاتھ میں ہونے یا سُود پر قرض لے لینے کی وجہ سے زیادہ مقدار میں سستا مال خرید تے پھر سستا بیچتے اور نفع اٹھاتے۔مگر مسلمان زیادہ مال نہ خرید سکتے۔پھر ہندو ادھار دے کر اس پر سُود لگا لیتا ہے مگر مسلمان اس طرح نہیں کر سکتا۔تو تاجروں کی طرف سے اس قسم کی شکائتیں آتی ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ اگر وقت پر رو پیدل جائے تو ہم فوری طور پر دو گنا نفع کما سکتے ہیں مگر بغیر سُود کے کسی جگہ سے رو پیہ ملتا نہیں۔ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کوئی ایسی تجویز کی جائے کہ قرضہ کی جو ضرورت پیش آتی ہے وہ پوری ہو سکے۔ایک مومن کی شان یہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ وہ یوں کسی سے روپیہ لے وہ چاہتا ہے کہ قرض مل جائے جسے وقت پر ادا کر دے مگر قرض ملتا نہیں۔ان ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجاویز پیش ہوئی ہیں۔تاجروں کی ضروریات پورا کرنے اور پسماندگان کی امداد کے لئے علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں بنانی پڑیں گی کیونکہ ایک کمیٹی دونوں کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی مگر ان کمیٹیوں کے اصول کے ہو جانے چاہئیں۔اب جو دوست بولنا چاہیں وہ بولیں۔“ شیخ یعقوب علی صاحب : - میں ناظر صاحب امور عامہ کی تجویز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ނ " آج سے آٹھ سال پہلے بھی حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالی کو اس کا خیال تھا۔اس بات کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ ہو جاتا اگر ہمارے علماء نے اس طرف توجہ کی ہوتی۔حضرت خلیفہ اسیح نے بیمہ کے متعلق علماء کو توجہ دلائی تھی۔میں دو سال قادیان۔باہر رہ کر آیا ہوں معلوم نہیں علماء نے کوئی صورت پیش کی ہے یا نہیں۔میرے خیال میں بیمہ کی ایسی کمپنیاں ہیں جو اس قسم کی امداد کا انتظام کرتی ہیں اگر بیمہ کے جواز کی صورت ہو تو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے ورنہ امور عامہ نے جو تجویز پیش کی ہے وہ نہایت مفید ہے۔دوسرے اگر کو آپریٹو سوسائٹیوں کے طور پر کام کیا جائے تو بھی مشکلات حل ہوسکتی