خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 294
خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء بھی اگر مبلغ ہوا تو اس کے لئے یہی وقت پیش آئے گی۔ایسا آدمی ہونا چاہئے جس میں لڑائی جھگڑنے کو مٹانے اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی قابلیت ہو، یہ نہیں کہ وہ مبلغ ہو۔ابھی پچھلے سال کشمیر میں کچھ جھگڑے تھے اُن کے لئے ایک آدمی کو بھیجا گیا جو تبلیغ بھی کرتا رہا۔اب گرمیاں شروع نہیں ہوئیں کہ ابھی سے خط آ رہے ہیں کہ اگر کوئی مبلغ نہ آیا تو لوگ مُرتد ہو جائیں گے۔تو مبلغ کا قیام گویا منہ کو لہو لگ جاتا ہے جو پھر چھوڑا نہیں جا سکتا۔پس ایسا آدمی مبلغ نہیں ہونا چاہئے۔مگر باوجود اس کے ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ جماعت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے بہت کام کرنا ہے اور مالی مشکلات درپیش ہیں اور یہ اور خرچ بڑھے گا۔خدا کے فضل سے ہماری جماعت میں ہر طبقہ کے لوگ ہیں اور ہر عمر کے ہیں اگر وہ اتنی بھی ہمت نہیں کر سکتے کہ اپنے کام سے فارغ ہو کر دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیں تو بہت افسوس کی بات ہے۔اگر ہماری جماعت ایسے آدمی پیدا نہیں کر سکتی تو یہ بہت بڑا اعتراض ہے۔اس کام کے لئے کسی ایسے ہی آدمی کو جو پنشن وغیرہ لے کر اپنے کام سے ریٹائر ہو چکا ہو کام کرنے کے لئے پیش ہونا چاہئے۔اُس کے عام اخراجات کے لئے ۶۰۰ سالانہ خرچ کی منظوری دی جاتی ہے۔ایسے آدمی جو پنشن لے رہے ہوں اور کام کر سکتے ہوں ، معاملہ فہم ہوں، وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔تین سو روپیہ مکان کے کرایہ وغیرہ کے لئے اور تین سو سفر خرچ وغیرہ کے لئے دیا جائے گا۔ہماری جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کر سکتے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں وہ پیش کریں گے۔“ 66 رپورٹ سب کمیٹی تجارت سب کمیٹی تجارت کی رپورٹ پیش ہونے پر سرمایہ جمع کرنے کے سلسلہ میں سب کمیٹی تجارت کی تجاویز کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - میں ان تجاویز کے متعلق رائے لینے سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کئی قسم کی ضرورتیں پیش آ رہی ہیں۔ایک اہم ضرورت تو یہ ہے کہ عام طور پر غرباء کوئی ایسی جائداد نہیں چھوڑتے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اولاد کے کام آ سکے۔اگر ایسے بچوں کا بوجھ