خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 293
خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء یہ تھا کہ محصل بھی ایسے امور کے متعلق رپورٹ کرتے رہتے ہیں اور مبلغ بھی۔میں ان کی رپورٹوں کو دیکھتا ہوں اور ان میں خصوصیت سے ایسی باتوں کا ذکر ہوتا ہے لیکن جب خان صاحب منشی فرزند علی صاحب نے اصل تجویز کی تشریح کی تو میری رائے بدل گئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایسی لڑائیوں کے دور کرنے کے لئے انسپکٹر کی ضرورت نہیں ہے جو دو چار آدمیوں میں ہوں۔ایسی لڑائیاں تو صحابہ میں بھی ہو جاتی تھیں اور بڑے بڑے صحابہؓ میں ہو جاتی تھیں۔حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر میں بھی ہو گئی تھی۔ایسی باتوں کے لئے انسپکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔مگر خان صاحب نے جو تشریح کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تجویز کی اصل غرض یہ ہے کہ بعض جماعتوں میں پارٹیاں اور جتھے بن گئے ہیں، ان میں صرف اختلاف ہی نہیں پایا جاتا بلکہ اختلاف کو قائم رکھنے کے لئے منصوبے اور کوششیں کی جاتی ہیں اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ایک پارٹی دوسری پارٹی کو گرا دے۔گویا ایک رنگ میں وہی شقاق پیدا ہو گیا ہے جس کے مٹانے کے لئے سلسلہ احمدیہ قائم کیا گیا ہے۔وہ انفرادی اختلاف نہ تھا جس کے مٹانے کے لئے جماعت احمدیہ کو کھڑا کیا گیا۔انفرادی اختلاف نہ کبھی مٹا ہے اور نہ مٹ سکتا ہے۔جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ میں بھی ایسی لڑائی ہوسکتی ہے تو اوروں کی لڑائی کا کیا ہے۔ایسی باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی اور معمولی ہوتی ہیں مگر ایک وہ شقاق ہوتا ہے جسے انبیاء مٹانے کے لئے آتے ہیں اور قرآن کہتا ہے کہ ایسا اختلاف اور انشقاق رکھنے والے آگ کے کنارے کھڑے تھے۔وہ انشقاق یہ ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے میں جُدا ہستی ہوں اور جُدا رہنا چاہتا ہوں۔یہ اختلاف حرام ہے اور سخت منع ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایسا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اور پیدا ہو رہا ہے۔دو تین جماعتیں ایسی ہیں جہاں ایسا ہی اختلاف ہے۔ایسے مقامات کی اصلاح انسپکٹر ہی کر سکتا ہے۔اس تشریح کے مطابق ایک باعلم اور با حیثیت انسپکٹر کی ضرورت ہے۔مبلغ نہ صرف یہ کہ اس کام کو کر نہیں سکتے بلکہ میرے نزدیک یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ ایسا شخص ہرگز مبلغ کا کام نہ کرے اس میں خطر ناک نقص پایا جاتا ہے۔جب کسی مبلغ کو کسی جگہ بھیجا جاتا ہے اور وہ اچھی طرح کام کرتا ہے تو پھر وہ جماعت اس مبلغ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔انسپکٹر