خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 291

خطابات شوری جلد اوّل ۲۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اعلیٰ تعلیم کے لئے کیا سکیم ہونی چاہئے۔پرائمری کی تعلیم کی بحث نہیں اس میں جو تعلیم ہے وہ زیادہ نہیں بلکہ میرے نزدیک کئی پہلوؤں سے کم ہے ہمیں غور اعلیٰ تعلیم کے متعلق کرنا ہے۔اس وقت میں فیصلہ تو وہی کرتا ہوں جس کی تائید میں کثرت رائے ہے یعنی سب کمیٹی کی تجویز منظور کرتا ہوں مگر یہ بھی کہتا ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کا جس قدر جلد سے جلد مکمل انتظام کیا جائے گا اتنا ہی مفید ہو گا۔مسلمانوں نے اس بات کو مد نظر نہیں رکھا اور بہت نقصان اٹھارہے ہیں۔عورتوں کی تعلیم کئی لحاظ سے فائدہ پہنچاتی ہے اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں نے بڑا نقصان اُٹھایا ہے۔حضرت خلیفہ اسی اوّل کے وقت یہاں ایک شخص آیا اور خلیفہ اول سے کہنے لگا مجھے کسی کام پر لگا دیں۔اُنھوں نے فرمایا مولوی محمد علی صاحب سے جا کر ملو۔اُس نے کہا آپ اُن کی طرف چٹھی لکھ دیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا یونہی جاؤ اس سے فائدہ ہوگا۔آخر اُس نے چٹھی کے لئے زیادہ اصرار کیا تو حضرت خلیفہ اول نے لکھ دی۔اِس کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ اس وقت کوئی جگہ نہیں ہے، اگر فر ما ئیں تو اس کے لئے کوئی نئی جگہ نکال لی جائے۔حضرت خلیفہ اول نے اُسے بتایا میں نے تو پہلے ہی کہا تھا، چٹھی نہ لکھواؤ۔آخر اس شخص نے مولوی محمد علی صاحب سے اپنے طور پر ملنا جلنا شروع کر دیا اور چند ہی دن کے بعد اُسے انہوں نے ملازم رکھ لیا۔تو ملنا جلنا بڑا اثر رکھتا ہے۔میں نے شملہ میں محسوس کیا کہ ہندوؤں کے اثر و رسوخ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انگریز عورتوں سے ہندو عورتوں کا تعلق ہے مگر مسلمان عورتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ایک زنانہ دعوت میں میری ایک بیوی شامل ہوئیں۔میں نے ان سے مسلمان عورتوں کے حالات پوچھے وہ یہی کہتیں کہ ہر بات میں مسلمان عورتیں پیچھے ہی رہتی تھیں اور کسی کام میں دخل نہ دیتی تھیں۔میری بیوی انگریزی میں گفتگو نہ کر سکتی تھیں۔ایک انگریز عورت نے اُن سے گفتگو کرنے کی خواہش بھی کی مگر وہ نہ کر سکیں۔غرض مسلمانوں کا سوشل اثر اس لئے بہت کم ہے کہ مسلمان عورتیں تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور ان کے تعلقات بڑے سرکاری عہد یداروں کی بیویوں سے نہیں ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت میں عورتوں کا دخل نہیں ہے، بہت بڑا دخل ہے اور جن عورتوں کا آپس میں تعلق ہو، اُن کے مردوں کا خود بخود ہو جاتا ہے۔اس