خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 277
خطابات شوری جلد اول ۲۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اب سوالات کے جواب ہو چکے ہیں اور ہمارے سامنے جو کام ہے وہ یہ ہے کہ مختلف صیغوں کے لئے جو امور ایجنڈا میں درج ہیں اُن پر غور کرنے کے لئے سب کمیٹیاں بنائی جائیں مگر اس سے پہلے ایک بات سوالات کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے ۔ سوالات کے متعلق ے متعلق ایک شرط ایک دوست نے اس دفعہ کچھ سوالات بھیجے تھے جن کے ساتھ یہ شرط لکھی تھی کہ اس صورت میں ان سوالات کو پیش کیا جائے جب کہ ان کے جوابات دینے کے بعد ان پر گفتگو کرنے کی بھی اجازت ہو، ورنہ نہ پیش کئے جائیں ۔ یہ درخواست اصولاً بھی غلط ہے اور ایک اور لحاظ سے بھی غلط ہے جسے میں ابھی بیان کروں گا ۔ اصولاً تو اس لئے غلط ہے کہ ایسے موقع پر کہیں بھی سوالات کے بعد گفتگو کا موقع نہیں دیا جاتا کیونکہ کلام در کلام کا سلسلہ اس قدر وسیع ہے کہ کوئی اور سلسلہ اتنا وسیع نہیں ہے۔ اس سلسلہ کو اتنا بڑھایا جا سکتا ہے کہ دُنیا تو ختم ہو جائے مگر یہ وختم۔ یہ سلسلہ ختم نہ ہو ۔ اس لئے عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جو سوال پوچھا جائے اُس کا جواب دے دیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی بات رہ گئی ہو تو وہ پوچھ لی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہ سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔ پس جو شرط لگائی گئی تھی وہ دنیا کے مروجہ اصول کے خلاف تھی ۔ سوال کرنے کی اجازت دینا خلیفہ کا کام ہے دوسرے سوال کے متعلق بولنا اور سوال کرنے کرنے کی اجازت دینا چونکہ خلیفہ کا کام ہے اس لئے اس قسم کی سٹرائیک نہیں کرنی چاہئے کہ اگر جواب دینے کے بعد پھر بولنے کی اجازت نہ ہو تو پھر سوال پیش ہی نہ کئے جائیں ۔ : ان کو سوالات پیش کرنے چاہیئے تھے اور پھر ان کے متعلق مزید گفتگو کرنے کے لئے درخواست کرنی چاہئے تھی کہ اجازت دی جائے ۔ اگر مناسب ہوتا تو میں اجازت دے دیتا اور مناسب نہ ہوتا تو نہ دیتا۔ اس طرح وہ بھی خوش ہو جاتے اور سوالات سے جو بہت سے فائدے حاصل ہو جاتے ہیں وہ بھی حاصل ہو سکتے ۔ پس یہ کہنا کہ اگر لمبی گفتگو کی اجازت نہ ہو تو سوالات بھی پیش نہ کئے جائیں یہ درست نہیں تھا۔ ابھی دیکھئے سوالات میں ایک مفید مانہ یہ نہیں سوالات ایک بات کا ذکر آ گیا (یعنی مالی سال کو ختم کرنے کے متعلق ) جس کے متعلق غلط طریق پر عمل ہوتا