خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 276
خطابات شوری جلد اول ۲۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اور ضرورت ہے کہ سال میں دو دفعہ ہوتا کہ زیادہ مسائل پر غور کیا جا سکے۔ اس کے بعد میں رپورٹ ہائے نظارت کے سُنانے کا موقع ناظروں کو دیتا ہوں ۔ ابھی پروگرام میں وقت تو میرے لئے ہے مگر میں اس بات کو دیکھ کر کہ پچھلے سال نظارتوں کی رپورٹیں پوری سُنائی نہیں جا سکی تھیں اور وقت ختم ہو گیا تھا میں اپنے وقت میں سے بھی کچھ وقت دیتا ہوں اور کچھ آپ لوگوں کو پروگرام میں تجویز کردہ وقت کے بعد بیٹھ کر دینا ہو گا تا کہ رپورٹیں ختم ہو سکیں ۔ پس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت اس کارروائی کو شروع کرنے کی اجازت دیتا ہوں ۔ ناظر صاحب اعلیٰ اپنی رپورٹ پڑھیں ۔“ حضور کے ارشاد کے مطابق ناظر صاحبان نے اپنے اپنے صیغہ جات کی رپورٹیں پڑھیں۔ اس کے بعد سوالات کی مطبوعہ کا پیاں نمائندگان میں تقسیم کی گئیں ۔ سوالات کے بارہ میں حضور نے فرمایا :- دو سوالات کے متعلق بعض اُصولی غلطیاں ہوئی ہیں، ان کا ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ایک تو یہ کہ سارے کے سارے سوالات ایسے ہیں جو نمائندوں کی طرف سے نہیں حالانکہ سوال کرنے کا حق نمائندوں کے لئے ہے ورنہ مجلس میں سوال کون کرے اور جواب کیسے دیا جائے۔ پھر سوالات جن نمائندوں کی طرف سے ہوں اُن کے نام درج ہونے چاہئیں ۔ آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ صرف نمائندوں کی طرف سے سوالات بھیجے جا سکتے ہیں اور نمائندے تبھی سوال بھیج سکتے ہیں جب کہ جنوری کے پہلے ہفتہ میں وہ منتخب ہو جائیں ۔ یکم مارچ تک سوالات یہاں آجانے چاہئیں تاکہ ناظروں کو اُن کے جواب کی عظیم تیاری کا موقع مل جائے ۔ چونکہ سوالات شائع ہو چکے ہیں اس لئے ناظروں سے کہتا ہوں جس کے متعلق جو سوال ہو، وہ باری باری اُس کا جواب دیں ۔ حضور کی اس اُصولی ہدایت کے بعد ناظر صاحبان نے موصولہ سوالات کے جواب دیئے ۔ بعد ازاں حضرت خلیفہ اسی نے سوالات اور نظارتوں کی رپورٹوں پر بصیرت افروز تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا :-