خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 261
خطابات شوری جلد اوّل ۲۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء میں نہ پڑے اُس وقت تک کوئی زندگی زندگی نہیں ہے۔میں نے ابھی کسی اخبار میں پڑھا ہے ، ولایت کے بڑے بڑے کروڑ پتیوں سے پوچھا گیا کیا تمہیں آرام اور آسائش کی زندگی حاصل ہے؟ تو انہوں نے کہا جتنی زیادہ دولت جمع ہوتی جاتی ہے اتنی ہی بے چینی بڑھتی جاتی ہے مگر ہمیں دُھن ہے کہ دولت کمائیں اس لئے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔تو اصل امن و راحت وہ چیز ہے جو بغیر خدا تعالیٰ سے تعلق کے حاصل نہیں ہوسکتی اور تعلق بغیر نفس کو مٹانے کے قائم نہیں ہوسکتا۔ایک فلاسفر اور ایک سائنس دان جن علوم کی تحقیق میں اپنی زندگی خرچ کر دیتا ہے وہ محض ظنی ہے۔ایک بات کو آج ثابت شدہ قرار دیا جاتا ہے، کل وہی باطل ہو جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ سے تعلق ایک ایسی ثابت شدہ بات ہے کہ جس میں کوئی شبہ ہی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔لوگ مجھ پر زور ڈالتے ہیں کہ میں خدا کو چھوڑ دوں۔اے خدا! میں تجھے کس طرح چھوڑوں۔جب ساری دنیا مجھے چھوڑ دیتی ہے تو تو میرا محافظ بنتا اور مجھے تسلی دیتا ہے۔یہ وثوق اور یہ یقین دنیا کی باتوں میں کہاں حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ خدا تعالیٰ سے ہی تعلق ہونے پر حاصل ہو سکتا ہے اور وہ تعلق ایک لمحہ میں حاصل ہو جاتا ہے۔دنیا کے ہر کام میں کچھ نہ کچھ وقت لگتا ہے مگر ایک سیکنڈ میں خدا ہاتھ میں آجاتا ہے۔یہ گستاخی کا کلام ہے کہ خدا ہاتھ میں آجاتا ہے مگر یہ محبت کا بھی کلام ہے۔بے شک خدا ہاتھ میں آجاتا ہے۔وہ اپنے بندے کی ہر بات مانتا ہے۔وہ بندے کا امتحان بھی لیتا ہے مگر اس کی ہر بات میں محبت ہوتی ہے۔پس آپ لوگ خدا تعالیٰ پر یہ یقین رکھتے ہوئے گھروں کو جائیں اور یہ عہد کریں کہ ہم خود ہی زندہ نہ ہوں گے بلکہ سب بھائیوں کو زندہ کریں گے۔ہم سستی اور ناامیدی کو پاس نہ آنے دیں گے۔اور ہر حالت میں خدا کے دین کی خدمت کے لئے تیار ہوں گے۔اگر یہ ارادہ اور یہ عزم کر لو گے تو یقیناً خدا تعالیٰ کی نصرت تمہارے لئے نازل ہوگی اور کوئی طاقت تمہیں شکست نہ دے سکے گی۔“ ( مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ) الانعام: ۱۶۳ تا ۱۶۶ قَشْعَرِيرَه : ڈر سے رونگٹے کھڑے ہونا