خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 249
خطابات شوری جلد اول ۲۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء را ہیں جو ارتداد کی ہیں بند کر کے وہ تمام دروازے جو اسلام قبول کرنے کے ہیں کھول نہ دیئے تو ہماری جماعت کی زندگی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ یاد رکھو کبھی کسی قوم کی مدت خواہ وہ کتنے بڑے نبی سے وابستہ ہو غیر منتہی زمانہ تک نہیں چلتی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو عملی قوت مسلمانوں میں پیدا کی وہ کچھ عرصہ تک چل کر رُک گئی ۔ یہی حال ہمارا ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو احساس اور درد گری ہوئی اور ظلمت میں پڑی ہوئی دنیا کو اُٹھانے کے لئے ہم میں پیدا کیا ہے وہ ایک عرصہ کے بعد ٹھنڈا ہو جائے گا ۔ جس طرح چھرے کا ایک چھوٹا سا دانہ جب گرم ہو تو اپنا اثر دکھاتا ہے مگر جب ٹھنڈا ہو جائے تو اُس کی کچھ حقیقت نہیں رہتی اسی طرح ہماری حالت ہوگی ۔ جب تک ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدا کردہ طاقت ہے اُس وقت تک اگر ہم نے دنیا فتح نہ کی تو جب مُردہ ہو جائیں گے اُس وقت کیا کریں گے۔ اگر تم اُس فورس اور اُس قوت اور اُس روح سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیدا کی ہے کام نہ لو گے اور ساری دنیا کو ایک سرے سے لے کر دوسرے تک ہلا نہ دو گے تو یاد رکھو اس کے نکل جانے کے بعد اُس کھاد کی طرح ہو جاؤ گے جو دوسروں کو تو فائدہ پہنچا سکتی ہے مگر خود اس قدر ذلیل اور ناپاک ہو جاتی ہے کہ کوئی اپنے دامن پر اس کا دھبہ بھی گوارا نہیں کرتا۔ پس اگر آپ لوگ بغیر آمد کو زیادہ کرنے کی کوشش کے بجٹ میں زیادتی کریں گے تو اپنے آپ کو تباہ کرو گے لیکن اگر اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لئے بھی نہ کھڑے ہو گے اور دنیا کو فتح کرنے کے لئے ابھی سے تیار نہ ہو جاؤ گے تو بھی اپنی موت کا آپ فتوی دو گے ۔ ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر مشورہ دو کہ اچھوت اقوام میں تبلیغ کا کام ہماری جماعت کو جاری کرنا چاہئے یا نہیں؟“ جب بہت سے اصحاب اپنی اپنی رائیں ظاہر کر چکے۔ جن میں سے ہر ایک نے تبلیغ کے کام کو شروع کرنے کی پُر زور تائید کی تو حضور نے فرمایا :- اس وقت یہ تجویز پیش ہے کہ سب کمیٹی نے تحریک کی ہے کہ باوجود مالی تنگی کے اچھوت اقوام میں تبلیغ کا کام شروع کیا جائے ۔ میں نے دونوں پہلوؤں کی ذمہ داریاں آپ لوگوں پر ظاہر کر دی ہیں ۔ اب سوچ سمجھ کر رائے دو ۔ ایک طرف خدا تعالیٰ نے تم پر جو