خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 246

خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء موجودہ بجٹ میں دو ہزار کی زیادتی ہوگی مگر بجٹ ایسا ہے کہ باوجود بعض صیغوں کے اُڑانے کے اگلے سال کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیس ہزار قرض ہو جائے گا۔احباب اس بات کو مد نظر رکھیں مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی مدنظر رہے کہ اس وقت حالت ایسی ہے کہ اگر اچھوت اقوام میں تبلیغ نہ شروع کی گئی تو ہماری گزشتہ ۳۵ سال کی محنت اور کم از کم گزشتہ پانچ سال کی شہرت جو ملکانوں میں تبلیغی کام کرنے کی وجہ سے ہماری جماعت کو حاصل ہو چکی ہے، اُسے سخت نقصان پہنچے گا۔پنجاب تو الگ رہا بنگال میں بھی بڑے بڑے آدمی سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت تبلیغ کا کام کر سکتی ہے تو احمدی جماعت ہی ہے۔سب سے بڑی مذہبی جنگ جو ہو رہی ہے وہ ان دنوں ہو رہی ہے کہ سینکڑوں آدمی مذہب بدل رہے ہیں۔اس جنگ میں لوگوں کے قلوب اس طرح ہل جائیں گے جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا اس لئے اس وقت اگر ہم بیٹھے رہے تو ہمارا گزشتہ ۳۵ سالہ تبلیغ کا کام خاک میں مل جائے گا اور نہ صرف ہندوستان کا بلکہ ہندوستان سے باہر کا بھی کوئی شریف آدمی ہماری شکل دیکھنے کا روادار نہ ہوگا اگر ہم نے اس جنگ میں حصہ نہ لیا۔ادھر تو یہ حالت ہے اور اُدھر بجٹ کو دیکھ لیا جائے کہ اس میں پہلے ہی کس قدر کمی کی گئی ہے۔یہ حالت جماعت کی نستی کی وجہ سے ہے۔اگر صرف وہ احمدی جو انجمنوں کے ممبر ہیں ایک آنہ فی روپیہ چندہ با قاعدہ دیتے تو موجودہ بجٹ چالیس فیصدی چندہ خاص کے بغیر بھی چل سکتا تھا اور ہم ایسے طور پر کام کر سکتے تھے کہ ساری دنیا کی نظریں صرف جماعت احمدیہ پر ہی آکر پڑتیں مگر کرنے اور کہنے میں بڑا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یکی اور چو ہوں کی ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے۔فرماتے۔چوہوں نے ایک دفعہ ہی سے تنگ آ کر اُس کے مارنے کا مشورہ کیا اور تجویز یہ ہوئی کہ بہت سے چو ہے مل کر اس پر حملہ کریں کسی نے کہا میں اس کا ایک کان پکڑ لوں گا، کسی نے کہا میں اس کا دوسرا کان پکڑ لوں گا، کسی نے کہا میں اُس کی ایک ٹانگ پکڑ لوں گا ، کسی نے کہا میں اُس کی دم پکڑ لوں گا اِس طرح ہر ایک نے ایک ایک حصہ جسم پکڑ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔یہ سب باتیں ایک بوڑھا چوہا خاموش بیٹھا سنتا رہا۔جب سب باتیں کر چکے تو اُس نے کہا ہر ایک نے بلی کا کوئی نہ کوئی حصہ پکڑ لینے کا اقرار کیا ہے مگر یہ تو بتاؤ کہ اس کی میاؤں کون پکڑے گا۔اتنے میں بلی آگئی اور اُس نے میاؤں کی جسے سُن کر سب