خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 245
خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ڈیوڑھی میں آنے سے روکا جاتا ہے مگر دربار میں وہ آ جائے۔اس وقت مشورہ یہ دیا گیا ہے کہ ایک مجرم کی وجہ سے معمولی حق سے روک دیا جائے مگر بڑا اور اہم حق دے دیا جائے مگر یہ طریق پسندیدہ نہیں ہے۔میرے نزدیک ابھی اس کمزوری کی وجہ سے کسی سزا کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں میں خدا کے فضل سے اخلاص ہے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر ان کو سمجھایا جائے اور بار بار سمجھایا جائے۔خطبوں میں داڑھی رکھنے کی اہمیت بیان کی جائے۔مضامین میں لکھی جائے تو وہ خود بخود اس پر عمل کرنا شروع کر دیں گے۔اس وقت ایک دوست یہاں بیٹھے ہیں جنہوں نے بتایا کہ ان کے پاس الفضل آتا ہے مگر وہ صرف میری خیر و عافیت کی خبر پڑھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں باقی پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی تو لوگوں کو نا واقفیت بھی ہے اس لئے کم از کم ایک شرط لگا تا ہوں۔دوستوں نے اس وقت جو مشورہ دیا ہے اسے منظور تو کر لیا ہے کیونکہ میں داڑھی رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ظاہری باتوں کا اخلاق پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ایک شخص جو رات کو چُھپ کر چوری کرتا ہے اس کے اس فعل کا دوسرے پر اتنا بُرا اثر نہیں پڑتا جتنا ایک چھوٹی بُرائی کا جو علی الاعلان کی جائے پڑتا ہے۔تو میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں مگر اس کا نفاذ آج سے ایک سال کے بعد ہونا چاہئے اور اس عرصہ میں لوگوں کو سمجھایا جائے کہ ظاہری باتوں کا کس قدر بُرا اثر پڑتا ہے اور داڑھی رکھنا ظاہری باتوں میں سے ایک ضروری بات ہے۔پس صیغہ تعلیم و تربیت دلائل سے سمجھا کر لوگوں کو داڑھی رکھنے کا قائل کرے۔“ تیسرا دن پنجاب اور بنگال کی اچھوت اقوام میں تبلیغ پنجاب اور بنگال کی انکھوت اقوام میں تبلیغ کے بارہ میں سب کمیٹی نظارت دعوۃ و تبلیغ کی رپورٹ مجلس مشاورت میں پیش ہوئی۔اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - اس کام پر اس وقت دو ہزار سے کم خرچ نہیں ہوگا۔پانچ سو روپیہ بنگال کے لئے رکھا جائے وہاں کم از کم دو آدمی بھیجنے ہوں گے اور ڈیڑھ ہزار پنجاب کے لئے۔اس طرح