خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 244

خطابات شوری جلد اوّل کی ضرورت نہ تھی۔۲۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء اس مسئلہ پر چند ممبران نے پھر اظہار خیال کیا تو حضور نے فرمایا : - یہ مسئلہ بہت دلچسپ بن گیا ہے اور شاید یہ ہمیشہ ہی دلچسپ رہا ہو۔ایک دوست تو یہ کہتے ہیں کہ ملا ازم والے قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ادھر علماء میں سخت بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور رقعہ پر رقعہ آ رہا ہے کہ داڑھی کو بڑھنے دیا جائے۔دراصل اس وقت داڑھی کے بڑھنے گھٹنے کا سوال نہیں پیش ہو سکتا۔سوال منڈوانے کے متعلق ہے کہ منڈوانے والوں کے لئے کیا وہ تجویز رکھی جائے جو سب کمیٹی نے تجویز کی ہے۔“ اب اس کے متعلق کافی بحث ہو چکی ہے جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ داڑھی منڈوانے والوں کو مجلس مشاورت کے لئے حق نمائندگی نہ دیا جائے ، وہ کھڑے ہو جائیں۔و بھی اس کی تائید میں بکثرت احباب کھڑے ہو گئے اس لئے کٹنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔(۲)۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ داڑھی منڈوانے والوں کو کوئی مرکزی یا مقامی عہدہ نہ دیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔بہت بڑی کثرت کی وجہ سے ان کو بھی شمار نہ کیا گیا۔(۳)۔وہ دوست جو اس بات کی تائید میں ہوں کہ داڑھی منڈوانے والوں کو حق وصیت سے محروم کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔۸۴۔احباب اس کی تائید میں کھڑے ہوئے اور ۹۵ محروم نہ کرنے کی تائید میں کھڑے ہوئے۔) فیصلہ گویا مجلس شوریٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ دوسزائیں تو دی جائیں مگر وصیت کا حق ملنا چاہئے۔ان دوسزاؤں سے میں بھی متفق ہوں کہ ان پر عمل شروع کر دیا جائے اور تیسری کو فی الحال پیچھے ڈال دیتا ہوں۔گو یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی اگر کسی کو سزا کے طور پر محروم کرنا چاہئے تو اعلیٰ چیز سے کرنا چاہئے نہ کہ اعلیٰ کی اجازت دے کر ادنیٰ سے محروم کیا جائے۔یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کے متعلق کہا جائے اسے فلاں جرم کی وجہ سے