خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 241
خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ہم کسی کی ہتک نہیں کر رہے نہ کسی کی ذلت کرتے ہیں۔ہم اپنی مشکلات کو دیکھ کر تجو یز پاس کر رہے ہیں۔اس کے لئے میں تین سال کی مدت مقرر کرتا ہوں اس کے بعد پھر اس پر غور کر لیں گے اگر اس وقت تک آسانی پیدا ہو گئی تو ہم اس قانون کو بدل دیں گے۔اب ایک سوال رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جہاں منگنی ہو چکی ہو وہاں کیا کرنا چاہئے اس کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ ایک تو وہ منگنی ہوتی ہے جو عورتیں آپس میں بیٹھ کر یونہی کر لیتی ہیں مگر بعض جگہ بات اس طرح پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ اگر اسے توڑا جائے تو خاندان پر تباہی آ جاتی ہے جہاں ایسی صورت پیش آنے کا خطرہ ہو وہاں کے معاملہ کو مرکز میں پیش کرنا چاہئے اور مرکز کو غور کر کے ایسی جگہ اجازت دے دینی چاہئے اگر معمولی بات ہو تو اجازت نہیں دینی چاہئے۔“ داڑھی رکھنے کے متعلق ایک تجویز "سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف پیش ہوئی۔اس بارہ میں حضور نے فرمایا: - وو سے داڑھی رکھنے کے بارہ میں ایک تجویز سب دوست متفق ہیں کہ صرف داڑھی رکھنے کے سوال کو لیا جائے میں بھی یہی فیصلہ کرتا ہوں۔“ سب کمیٹی کی دوسری شق کے متعلق فرمایا۔”میرے نزدیک سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ داڑھی رکھنے کی اہمیت کو لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاوے۔جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو بہت مخلص ہیں لیکن پھر بھی داڑھی منڈوانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے نہیں یہ ضروری امر ہے وہ اس لئے داڑھی منڈواتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اخلاص اور دینداری میں داڑھی رکھنا داخل ہی نہیں اس لئے پہلے نظارت کو چاہئے کہ ٹریکٹ شائع کر کے ان میں یہ بحث کرے کہ داڑھی ضروری ہے۔جب تک ایسے ٹریکٹ شائع نہ کئے جائیں تعزیر مناسب نہیں ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ نظارت تعلیم و تربیت ایسے ٹریکٹ شائع کر کے لوگوں کو بتائے گی کہ داڑھی رکھنا شرعی مسئلہ ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کا اخلاص اس درجہ تک پہنچا ہوا ہے کہ اگر کسی