خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 240
خطابات شوری جلد اوّل ۲۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کیا۔اگر ۱۹۲۳ء میں مجھ سے ایک غلطی نہ ہو جاتی تو سمجھتا ہوں مجھے قرض لینے کی بھی 66 ضرورت نہ پیش آتی۔“ رشتہ ناطہ سے متعلق تجویز سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے تجویز کہ گو مسئلہ کے طور پر جائز ہے اور جائز رہے گا لیکن جب تک موجودہ وقتیں ہیں یہ ہدایت جاری کی جاوے کہ کوئی احمدی کسی غیر احمدی لڑکی یا عورت کے ساتھ شادی نہ کرے۔“ پر مختلف نمائندگان کی بحث اور رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا :- فیصلہ چونکہ رشتہ ناطہ کے متعلق سب سے زیادہ وقت مجھے پیش آتی ہے کیونکہ لڑکیوں والے مجھے کہتے ہیں رشتہ تلاش کر کے دو اس لئے میں بڑی خوشی سے اس تجویز کی تصدیق کرتا ہوں۔جس کے متعلق اس وقت اس کثرت سے ووٹ دیئے گئے ہیں بعض جگہ رشتہ کی وجہ سے بہت دقت اور ابتلاء پیش آجاتا ہے۔ہمارا یہاں ریزولیوشن پاس کر دیتا جذبات انسانی پر اثر نہیں ڈال سکتا۔قدرت نے مرد وعورت میں یہ بات پیدا کی ہے کہ ایک وقت پر پہنچ کر شادی کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس وقت اگر جائز طور پر اس ضرورت کو پورا نہ کیا جاوے تو نا جائز خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔جس کے ہاں جوان لڑکی بیٹھی ہو وہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ عزت خطرہ میں نہ پڑے۔بے شک احمدی لڑکوں کو غیر احمدی لڑکیاں مل سکتی ہیں اور سینکڑوں ہزاروں مل سکتی ہیں جو ممکن ہے احمدی بھی ہو جائیں مگر ایک احمدی لڑکی کا مرتد ہو جانا دس ہزار غیر احمدی لڑکیوں کے احمدی ہونے سے بھی بُرا ہے۔حاصل شدہ چیز کا چھوڑنا بے غیرتی ہے۔پس موجودہ حالت میں ضروری ہے کہ ہم غیر احمدی لڑکیاں نہ لیں۔سید غلام حسین صاحب نے گو ایک سخت لفظ بولا ہے جس پر ممکن ہے عورتوں میں شور پڑے لیکن میں اسی کو استعمال کرتا ہوں اور وہ یہ کہ جب تک موجودہ سٹور ختم نہ ہو جائے اس وقت تک اس قانون کو جاری رکھنا چاہئے۔ہمارے لئے غیر احمدیوں سے تعلقات پیدا کرنا ضروری ہے اگر ہمارے ان سے تعلق نہ ہوں تو وہ سمجھتے ہیں نہ معلوم ہم کیا ہو گئے ہیں ہم نے نیا کلمہ اور نیا قرآن بنالیا ہے مگر اس وقت ہمیں جو مشکل پیش ہے اسے دیکھنا ہے