خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 239

خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کہ اب اسے تبدیل کیا جاوے۔یہ سوال کہ خلیفہ کو اس بارے میں اختیار ہے پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ کو اختیارات دیئے جاتے ہیں وہاں حد بندی بھی کی جاتی ہے اور ان حد بندیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس معاملہ کو جماعت پر چھوڑا گیا ہے اور جماعت کے فیصلہ کو مقدم رکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ۱۹۲۴ء میں اس بارے میں جو فیصلہ کیا تھا اُس میں بیان کر دیا تھا کہ اس کا فیصلہ مجلس شوری کرے۔اس معاملہ میں شوریٰ کا اختیار مشورہ دینے کا نہیں بلکہ خود فیصلہ کرنے کا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ۱۹۲۳ء تک قرضہ کے طور پر بھی بیت المال سے کوئی رقم لینے کی مجھے ضرورت پیش نہ آئی تھی ممکن ہے کبھی کوئی قلیل رقم لی ہو۔بہت سے اخراجات سلسلہ کے متعلق ایسے تھے کہ وہ بھی میں اپنے پاس سے کرتا رہا مگر بعض حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ مجھے قرضہ لینا پڑا۔اس قرضہ کو لئے تین سال ہو گئے ہیں۔اس میں سے بعض رقوم ادا بھی کی گئیں مگر بیشتر حصہ ایسا ہے کہ جو ابھی ادا نہیں کر سکا گو میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میرے قرضہ کی ذمہ دار میری جائداد ہے مگر میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی زندگی میں ہی قرض ادا کرنے کی توفیق دے گا لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ کسی خلیفہ کو اخراجات کی ضرورت پیش آئے اس لئے کوئی انتظام ہونا ضروری ہے۔حضرت خلیفہ اول کے پاس تو ایک ایسا فن تھا جس کی وجہ سے آمد ہو جاتی تھی۔اسی طرح مجھے بھی پہلے سالوں میں معقول رقم خاص ذرائع سے مل جاتی تھی مگر یہ طریق ہمیشہ کے لئے نہیں چل سکتا۔اب چوہدری صاحب کا بیان ہے کہ ۵۰۰ روپیہ ماہوار خلیفہ کے ذاتی اخراجات کے لئے اور ۱۵۰۰ سالا نہ سفر خرچ کے لئے مجلس نے تجویز کیا ہے اور پانچ سال کا عرصہ اس پر دوبارہ غور کرنے کے لئے مقرر ہوا ہے۔میری اپنی تجویز سات سالہ تھی۔اگر اس دوران میں کوئی وجہ خاص پیش آ جائے تو دوسرے اسے پیش کر سکتے ہیں۔اگر ہر سال اس پر غور کیا جاوے تو یہ مشغلہ ہی بن جائے۔اس بحث کو اُٹھانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سوال کیا جاتا تھا کہ خلیفہ اسیح شادیاں کرتے جاتے ہیں اور اس طرح جماعت پر بوجھ پڑتا ہے۔اس پر مجھے تعجب ہوا کہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کام کس طرح چلتا ہے۔آج تک کے بجٹ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ میرا کوئی بوجھ انجمن پر نہیں۔یہ بوجھ مجھ پر یا اُن عورتوں پر ہے جن سے میں نے نکاح