خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 236

خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء بنائے۔“ دعا کے بعد فرمایا : - اب باری باری سب کمیٹیوں کے سیکرٹریوں کو بلا یا جائے گا کہ وہ اپنی اپنی رپورٹیں پیش کریں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اب کے پہلے طریق کے خلاف بولنے والوں کو کھلی اجازت نہ ہوگی کہ جو کھڑا ہو جائے اُسے بولنے کی اجازت دی جائے بلکہ جب کوئی تجویز پڑھی جائے گی اُس وقت جو دوست بولنے کے لئے کھڑے ہوں گے، اُن کو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نام لکھ کر باری باری بولنے کے لئے بلاتے جائیں گے۔چونکہ چوہدری صاحب سب کے نام نہیں جانتے اس لئے جو دوست کھڑے ہوں وہ اپنا نام بتا دیں۔دوستوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ جب کوئی تجویز پیش ہو تو جو اُس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں وہ اُسی وقت کھڑے ہو جائیں، بعد میں کھڑے ہونے والوں کو موقع نہیں دیا جائے گا۔ایک صاحب نے تجویز پیش کی ہے کہ چوہدری صاحب میرے دائیں طرف نہ بیٹھیں۔میں اُن کی اس بات کی حقیقت نہیں سمجھا۔مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جب امام کھڑا ہو اور مقتدی ایک ہو تو اُسے امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔پس دنیا کا رواج خواہ کچھ ہو، شریعت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام جب کھڑا ہو اور مقتدی ایک ہو تو اُسے امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔اس سے استدلال کرتے ہوئے میں یہ اخذ کرتا ہوں کہ خلیفہ کے ساتھ اگر کسی اور کو کام کے لئے بیٹھنا پڑے تو وہ دائیں طرف بیٹھے۔اب نظارت اعلیٰ اپنی رپورٹ پیش کرے حضور کے ان ابتدائی کلمات کے بعد سب کمیٹی نظارت اعلیٰ کی رپورٹ پیش ہوئی اور بحث کے بعد کمیٹی کی تجاویز کے بارہ میں فیصلے ہوئے۔بعد ازاں حضور نے اپنی طرف سے ایک تجویز ممبران کے سامنے رکھتے ہوئے فرمایا :- اب مجلس کے سامنے وہ تجویز پیش ہوتی ہے جو دراصل میری نہیں مگر دوستوں کے کہنے پر مجھے پیش کرنی پڑی ہے اور ایجنڈا میں اس طرح درج ہے۔مجھے بعض لوگوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس وقت تک خلفاء کا جو