خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 235

خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء حسب منشاء نہیں نکلا تو اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔دیکھو اگر کسی کو مثلاً گھوڑا خریدنے کے لئے کچھ روپیہ دیا جائے اور گھوڑا خریدا جائے مگر وہ مر جائے تو کیا جماعت کہہ سکتی ہے کہ ہم یہ روپیہ نہیں دیتے۔یہ سوال تو ہو سکتا ہے کہ گھوڑا کیوں خریدا گیا۔آیا دیکھ بھال کر خریدا گیا یا نہیں؟ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ گھوڑا مر گیا ہے اس لئے روپیہ واپس ادا کر و۔انجمن نے ایک آدمی کو اس لئے بھیجا کہ اس سفر کا ریکارڈ جمع کرے۔یہ صحیح اور درست کام ہوا۔اس طرح یہ روپیہ ضرورت اور مشورہ اور خواہش کے مطابق خرچ ہوا۔آگے نتیجہ انجمن کی غلطی کی وجہ سے نہ نکلے تو اُس سے سوال کیا جاسکتا ہے نہ کہ جس پر روپیہ خرچ ہوا اُس سے۔فرض کرو اگر ایسا آدمی فوت ہو جائے یا اُس کا حافظہ خراب ہو جائے تو کیا روپیہ کا مطالبہ اس سے کیا جائے گا ؟ اس موقع پر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کونسل میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو کچھ ہوتا ہے اِس کا اُنہوں نے یہاں غصہ نکالا ہے۔ورنہ یہ نہیں کہ میری طرف سے کسی کو سوال کرنے سے روکا گیا ہے۔کونسل میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں کیا جاسکتا۔یہ دراصل کونسل کا کھیل ہے جو اب کے میں بھی دیکھ آیا ہوں۔وہاں ممبر جو سوال کرتے سرکاری ممبر اسی قسم کا جواب دے دیتے تھے چونکہ ہم نے اس بارے میں ابھی تک کوئی قوانین مقرر نہیں کئے اس لئے وہی کرنا پڑا جو گورنمنٹ کرتی ہے لیکن میں اس طریق کو نہ اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور نہ گورنمنٹ کے لئے۔کیونکہ بعض ضروری سوال پیدا ہو جاتے ہیں جن کے پوچھنے کا حق ہونا چاہئے۔مگر فی الحال جب تک اپنے قواعد تجویز نہ ہوں انہی پر عمل کرنا پڑتا ہے۔“ 66 دوسرا دن مشاورت کے دوسرے دن ۱۶/ اپریل ۱۹۲۷ء کو کانفرنس کا اجلاس تین بجے بعد دو پہر شروع ہوا تو حضور نے فرمایا :- وو چونکہ احباب جمع ہو گئے ہیں اس لئے دعا کے بعد مجلس کی کارروائی شروع کی جائے گی۔سب دوست مل کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری آراء اور افعال کو اپنی منشاء کے ماتحت