خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 234

خطابات شوری جلد اوّل ۲۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء مشاہرہ مقرر نہ کیا جاتا وہ کس طرح وقت دے سکتے تھے۔اگر سو روپیہ ماہوار اس لئے دیتے کہ وہ سفر نامہ تیار کریں اور پھر وہ نہ کرتے تو قابل مواخذہ تھے۔جب تک ان کا مشاہرہ نہیں مقرر کیا گیا وہ قابل مواخذہ نہیں ہیں کیونکہ صدر انجمن نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہیں کیا۔اگر صدرانجمن مقرر کرتی اور پھر وہ نہ لکھتے تو زیر الزام تھے اور ان کے متعلق کارروائی کی جاسکتی تھی اس لئے یہ کہنا کہ جب وہ واپس آئیں گے تو کارروائی کی جائے گی یہ درست نہیں ہے۔وہ صدر انجمن کے ملازم نہیں ہیں وہ اپنا کام کر کے روٹی پیدا کرتے ہیں۔اس کام سے ہٹا کر ہم اُنہیں ساتھ لے گئے تھے اس کی اُن کو کوئی تنخواہ نہیں دی گئی۔پھر یہ اُمید رکھنا کہ مفت کام کریں، یہ ایسا مطالبہ ہے جو عقل نہیں کیا جاسکتا اس لئے اس کام کے نہ ہونے کی ذمہ داری صدرانجمن پر ہے۔اور سوال یوں کرنا چاہئے تھا کہ صدر انجمن جس نے پانچ چھ ہزار روپیہ ان کے بھیجنے پر صرف کیا تھا اُس نے پانچ چھ سو دے کر کیوں نہ اس کام کو مکمل کر لیا۔چونکہ شیخ صاحب موجود نہیں ہیں اور ان کے متعلق غلط شبہ پیدا ہوسکتا تھا اس لئے میں اسے دُور کرنا چاہتا ہوں۔اس سوال کا جُو و " ج" بھی جماعت کی کانسٹی ٹیوشن کے خلاف ہے۔جماعت کے روپیہ کی آخری ذمہ داری خلیفہ پر پڑتی ہے اور وہی خدا کے آگے اس کا جواب دہ ہے اس لئے یہ کہنا کہ جماعت اس خرچ کو کیوں برداشت کرے، یہ غلط ہے۔جماعت کا صرف اتنا کام ہے کہ دیکھے کوئی کام خراب تو نہیں ہو رہا۔اگر کوئی خرابی ہو تو اس کے متعلق خلیفہ کو توجہ دلائے کہ آپ اس کے متعلق کارکنوں سے جواب طلب کریں۔ایک تو اس سوال میں یہ غلطی ہے۔دوسرے اس میں یہ مد نظر نہیں رکھا گیا کہ کام سپرد کرتے وقت یہ مد نظر ہوسکتا تھا کہ کام ہوگا یا نہیں۔اُس وقت یہی سمجھا گیا ہوگا کہ آگے حالات کی وجہ سے نہ ہونے پر کام سپرد کرنے والے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔مثلاً کسی کو کسی چیز کا اہل سمجھ کر وہ چیز اُسے دی جائے اور آگے اُس سے ٹوٹ جائے تو کیا ٹوٹنے کا ذمہ دار دینے والا بھی ہوگا ؟ ہرگز نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جو روپیہ ولایت کا سفر نامہ مرتب کرنے پر خرچ ہوا وہ کسی کو یوں ہی دے دیا گیا ہے یا کوئی اُٹھا کر لے گیا ہے۔اگر ایسا ہوا ہے تو سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جنہوں نے دیا ہے اُن سے لینا چاہئے لیکن اگر نیک نیتی سے ایک کام پر لگایا گیا ہے اور آگے نتیجہ