خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 228

خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء طریق اختیار کیا گیا ہے تو خود بخود اس پر عمل کرنے لگ جائیں گے۔خاص لوگ خاص قربانی کے لئے تیار ہوں پس ہم اپنی زندگی میں اس کام کو چلانے کے لئے ہر طرح تیار رہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اور یہ کوئی بڑی قربانی نہ ہوگی بلکہ ادنی ایمان کی علامت ہوگی۔یہ زمانہ ایسا ہے کہ قومی قربانی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔یعنی جب تک ساری کی ساری قوم قربانی نہ کرے وہ ترقی نہیں کر سکتی اسی لئے سب کے لئے یکساں قربانی کا موقع رکھا گیا ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور جماعت کے سارے لوگ قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتے تو پھر یہ سخت بے غیرتی ہے کہ خاص لوگ بھی خاص قربانی کے لئے تیار نہ ہوں اور اُس حد تک قربانی نہ کریں جو خود کشی کی حد نہ ہو اور خدا تعالیٰ نے جس حد سے روک دیا ہے کہ اس سے آگے نہ بڑھو۔پس آج ان باتوں پر غور کرو اور سستی کو دور کر دو، غفلت چھوڑ دو اور ایک آنہ فی روپیہ ماہوار اور چالیس فیصدی سالانہ چندہ خاص ادا کرنے کے لئے ساری جماعت کو تیار کرو۔اگر ساری جماعت اس کے لئے تیار نہیں ہوتی تو چھوڑ دو ایسے لوگوں کو اُن کی قسمت پر۔جو اسلام کو خدا تعالیٰ کا سچا دین اور احمدیت کو سچا مذہب سمجھتا ہے وہ آگے بڑھے۔ہم اپنے کھانے اور لباس کی معینہ حالت مقرر کر دیں گے اور باقی سب کچھ دین کے لئے دے دیں گے۔جو لوگ دین کی ایسی حالت میں بھی اس قربانی کے لئے تیار نہ ہوں اُن میں ہم کمزوری سمجھیں گے مگر بے ایمان نہ کہیں گے اور ان کے لئے دعا کریں گے کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی دین کے لئے قربانی کرنے کی توفیق دے۔پس اب مخلصوں کو ایسے لوگوں کا زیادہ انتظار نہ کرنا چاہئے جو بار بار توجہ دلانے پر بھی سستی ترک نہیں کرتے اور دین کے لئے معمولی قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور مخلصین کو آگے آجانا چاہئے۔جب خدا تعالی اسلام کو دنیا میں قائم کر دے گا تو وہ دن ہمارے لئے عید کا دن ہوگا اور جب تک یہ نہ ہو اُس وقت تک ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو قربان کر دیں۔اپنے آپ کو مٹائے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے کام