خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 229
خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کریں اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اپنے آپ کو مٹانے کے بغیر کامیابی نہیں حاصل ہو پہلے تو ضروری ہے کہ جتنا عام مطالبہ کیا جاتا ہے اُسے پورا کریں۔اسی سے نہ صرف ہماری موجودہ ضرورتیں پوری ہو جائیں گی بلکہ ریز روفنڈ بھی قائم ہوسکتا ہے جو قحط کے ایام میں یا دوسری مشکلات کے وقت کام آ سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو جماعت کے مخلصوں کو کھڑا ہو جانا چاہئے تاکہ دین کی ہر طرح خدمت کریں اور اس کے لئے ہر ممکن قربانی دیں۔“ رپورٹوں پر ریمارکس حضور کی اس مفضل تقریر کے بعد نارتوں کی سالانہ رپورٹیں سنائی گئیں۔رپورٹیں سُنے کے بعد حضور نے فرمایا : - گو اس موقع پر میرے لئے پروگرام میں کوئی وقت نہیں رکھا گیا مگر میں سمجھتا ہوں جو رپورٹیں اس وقت پڑھی گئی ہیں۔ان کے متعلق کچھ بیان کرنا میرے لئے ضروری ہے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہر سال شکایت کی جاتی تھی کہ رپورٹیں محنت سے تیار نہیں کی جاتیں اور ناظر اپنے کام کو اس طرح پیش نہیں کرتے کہ لوگ ان کے کام کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں لیکن نہایت خوشی کی بات ہے کہ اس سال کی رپورٹیں نہایت مکمل اور ایسی اعلیٰ لکھی اور عمدہ پیرایہ میں ترتیب دی گئی ہیں کہ کسی دُنیا کی بڑی سے بڑی گورنمنٹ کی طرف سے بھی انہیں پیش کیا جاتا تو قابل تعریف سمجھی جاتیں۔ناظروں کے کام کی مشکلات رپورٹوں کوسن کر ناظروں کے کاموں کی مشکلات کے متعلق اگر درد نہ پیدا ہو اور ان کی مشکلات کے دور کرنے کا خیال نہ آئے تو ایسے طبقہ سے مایوس ہو کر اسے عضو معطل قرار دے کر خدا کے بھروسہ پر ناظروں کو کام کرنا چاہئے۔نظارت امور عامہ کی رپورٹ لیکن ایک ایسا شخص جو رپورٹ لکھنے اور لیکچر دینے میں اعلیٰ پایہ رکھتا ہے اور وہ ناظر امور عامہ ہے اُس کی رپورٹ ایسی نہ تھی۔مفتی صاحب تمام ناظروں میں سے اس بات میں بہتر سمجھے جاتے ہیں کہ وہ اس طرح لیکچر دیں کہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھیر لیں لیکن ان کی رپورٹ میں ایسے اُمور نہ تھے جو توجہ کھینچ سکتے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر حصہ نے بے توجہی سے سنی اور