خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 225

خطابات شوری جلد اول ۲۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء مانگتا ہوں تو ضرور پچاس فیصدی بلکہ سو فیصدی تک بھی جیسی حالت ہو دے دیتا ہوں اور اوروں کے متعلق بھی جانتا ہوں جو سلسلہ کے کارکن ہیں کہ مقررہ شرح پر چندہ ادا کرتے ہیں۔ ان کے متعلق یہ تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان سے چندہ جبراً وصول کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی تنخواہ سے وضع کر لیا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دیتے نہیں، باقاعدہ دیتے ہیں پھر ان کے متعلق اعتراض کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ چندہ عام سے ہی بجٹ پورا ہو سکتا ہے میرا اپنا اندازہ ہے کہ اس سال جو بجٹ اگر : کر ساری جماعت ۱۴۸۵۸۸ کے لوگ نہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے بلکہ صرف وہی لوگ جن کے نام رجسٹروں میں درج ہیں، ایک آنہ فی روپیہ چندہ بھی باقاعدہ دیں تو اسی سے بجٹ پورا ہو سکتا ہے اور کسی خاص چندہ کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مگر حالت یہ ہے کہ اگر اوسطاً اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے سب لوگ دو پیسہ روپیہ بھی چندہ نہیں دیتے۔ اگر سارے دوست اور اِس سے مراد صرف وہی لوگ ہیں جو رجسٹروں پر آئے ہوئے ہیں وہ نہیں جن کا ہمیں پتہ نہیں اور جن کا ہمارے حساب کے رجسٹروں میں اندراج نہیں، ایک آنہ فی روپیہ ماہوار چندہ دیں تو یقیناً چندہ ہماری موجودہ ضروریات سے بہت بڑھ کر ہو جائے ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس شرح پر بھی سارے چندہ ادا نہیں کرتے۔ ہماری قربانی دوسرے مسلمانوں میں پوچھتا ہوں اگر ہم باوجود اس کے کہ خدا تعالی فرماتا ہے۔ قُل إن كانَ آبَاؤُكُمْ وَابْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَازْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَ تُكُمْ وَأَمْوَالُ سے بڑھ کر ہونی چاہئے اقْتَرَ فَتُمُوهَا وَ رَجَارَةً تَخْشَوْنَ تَسَاءَهَا وَمَسْكِنَ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادِ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ الله با مرہ کے اگر تم اپنے آباء ، اپنے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنی بیویوں، اپنی برادری، اپنے اموال جو تم نے کمائے اور اپنی تجارت میں گھاٹے سے ڈرتے ہو اور اپنے گھروں کو اللہ اور رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ پسند کرتے ہو تو یاد رکھو خدا سے تمہارا کواللہ اور جہاد فی اللہ سے زیادہ کوئی تعلق نہیں ۔ تم اس وقت کا انتظار کرو جب تم پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور تمہاری یہ سب