خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 224
خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کرنے کا ذکر ہے۔اِس وقت ہمارے لئے قابلِ غور امر یہ ہے کہ جب جماعت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بڑھ رہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آمد میں ترقی نہیں ہوتی۔یہ تو یقینی بات ہے کہ جماعت بڑھ رہی ہے مگر یہ بھی یقینی بات ہے کہ ساری جماعت اپنے فرض کو اُس طرح پورا نہیں کر رہی جس طرح اُسے کرنا چاہئے۔اہل قادیان کی مالی قربانی میں نے سنا ہے کہا جاتا ہے باقی جماعت کو تو قربانی کے لئے کہا جاتا ہے اور بار بار اس پر زور دیا جاتا ہے لیکن قادیان میں رہنے والے قربانی نہیں کرتے۔یہ کہنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ جب قربانی کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ صرف لنگوٹ باندھ کر کھڑے ہو جاؤ اور باقی سب کچھ دے دو۔اگر قربانی کرنے کے لئے کہنے کا یہ مطلب ہو اور قادیان میں رہنے والے ایسا نہ کریں تو ان کے متعلق شکایت کی جاسکتی ہے لیکن جس قدر مطالبہ کیا جاتا ہے اُسے قادیان میں رہنے والے سب سے زیادہ پورا کرتے ہیں اور جس قدر دینے کے لئے کہا جاتا ہے وہ قادیان میں رہنے والے سب سے زیادہ ادا کرتے ہیں تو پھر کسی کو ان کے متعلق شکایت کرنے کا حق نہیں ہو سکتا۔ایک آنہ فی روپیہ چندہ عام ہے۔یا ۴۰ فیصدی چندہ خاص۔میں خود ہمیشہ اس اندازہ سے بہت زیادہ چندہ دیتا ہوں اور قادیان میں رہنے والے جو غریب ہیں اور جن میں سے اکثر کی آمدنیاں بہت معمولی ہیں وہ مقررہ چندہ تو سارے کے سارے ادا کرتے ہیں مگر ان میں سے ایسے بھی ہیں جو دو گنا ، تین گنا چندہ دیتے ہیں۔پس اس وقت تک جس قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ سب کچھ بیچ کر دے دو۔جب یہ مفہوم ہوگا تو انشاء اللہ سب سے پہلے ہم خود لنگوٹی گسیں گے اور پھر آپ لوگوں سے کہیں گے۔موجودہ قربانی کا مفہوم اس وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ ج قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔اگر اس کا یہ مفہوم ہے کہ چالیس یا پچاس فیصدی ماہوار آمدنی کا چندہ خاص میں ادا کیا جائے۔یا یہ کہ آنہ فی روپیہ ماہوار آمد پر ماہوار دیا جائے اور یہ قادیان میں رہنے والا کوئی ادا نہ کرے تو اعتراض کیا جاسکتا ہے۔میں نے اپنے متعلق تو بتایا ہے اور ریکارڈ موجود ہے کہ جب میں دوسروں سے چالیس فیصدی