خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 223
خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء لئے بھیجا تھا اُسے نکال دیا گیا اور اگر رکھا جائے تو اس کے اخراجات کا کون ذمہ دار ہو۔اس کے متعلق جماعت ہی مشورہ دے کہ کیا کرنا چاہئے۔(۴) تعلیمی کمی کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ کیا پرائمری تک جبری تعلیم ہو۔(۵) - وظائف کی تقسیم کے متعلق سوال ہے کہ کس طرح تقسیم ہو ا کریں۔یہ امر خاص طور پر میرے لئے مشکل ہے۔وقت یہ پیش آتی ہے کہ وظائف کسی اصل پر تقسیم نہیں کئے جاتے۔اس کے لئے اصول تجویز ہونے چاہئیں مثلاً یہ کہ کچھ وظائف جماعتوں کے لئے رکھے جائیں جس کے متعلق وہ سفارش کریں اُسے وظیفہ دیا جائے۔خاص وظائف اُن طلباء کے لئے رکھے جائیں جو ہندوستان سے باہر سے آئیں۔اب ۲۵،۲۴ ہزار روپیہ تعلیمی وظائف پر خرچ ہوتا ہے اور پھر بھی شکایت ہی رہتی ہے۔اگر وظائف کی تقسیم ہو جائے تو جماعت کو اطمینان ہو جائے گا۔(۶) اسی طرح یہ بھی اہم سوال ہے کہ دینیات میں فیل ہونے والے ہائی سکول کے طلباء کو ترقی نہ دی جائے۔اس کے متعلق پہلے بھی تجویز ہوئی تھی مگر کہا گیا تھا کہ ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ محکمہ تعلیم اسے منظور نہیں کرتا۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ جرمنی میں جو طالب علم دینیات میں فیل ہو اُسے ترقی نہیں دی جاتی۔اسی طرح علیگڑھ کالج میں بھی دینیات میں فیل ہونے والے کو ترقی نہیں دی جاتی۔میں نے اُس وقت بھی اس امر پر اظہار پسندیدگی نہ کیا تھا مگر اسے رد بھی نہ کیا تھا۔اب اس معاملہ کو پھر پیش کیا جاتا ہے۔احباب غور کر کے رائے دیں کہ جب وہ لوگ جن کا مقصد دین نہیں، ترقی نہیں دیتے تو ہم کیوں دیں۔علیگڑھ میں ہمارے لڑکے ایف۔اے کے امتحان میں دینیات میں فیل ہو گئے تو بی۔اے میں داخل نہ کیا گیا۔گو یہ شرم کی بات تھی کہ احمدی دینیات میں فیل ہو۔پس احباب غور کر کے اس کے متعلق رائے دیں۔سب سے اہم اور ضروری امر یہ سب ضروری مسائل ہیں مگر سب سے زیادہ اہم اور ضروری امر بیت المال کا ہے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ یا تو جماعت پہلے کی نسبت آمد کو زیادہ کرے یا پھر جو کاروبار جاری ہے اُسے بند کر دیا جائے۔اس وقت میں نے جو آیات پڑھی ہیں ان میں دین کے لئے ہر قسم کی قربانی