خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 221
خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء داخل اسلام نہ ہوئے ، چالیس پچاس کے قریب تو ہو گئے جو بیج کے طور پر کام دے رہے ہیں اور اوروں کو اسلام میں لاتے رہتے ہیں۔مگر جیسا کہ امید تھی کہ قوم کی قوم داخل اسلام ہو جائے گی یہ بات پوری نہ ہوئی۔اگر دوستوں کو معلوم ہو کہ کسی خاص علاقہ میں کام کرنے سے کامیابی ہوسکتی ہے تو پیش کریں۔اسی طرح ایک دوست کی یہ تجویز ہے کہ جاپان میں تبلیغی مشن کھولا جائے۔احباب اس کے متعلق بھی رائے دیں۔نظارت امور عامہ کی تجاویز پھر امور عامہ کی طرف سے تجاویز ہیں مثلاً یہ کہ لڑکیوں کے رشتوں کے لئے مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ لڑکیوں کے رشتے ہم غیر احمدیوں میں نہیں کر سکتے اور لڑکوں کے رشتے کر لیتے ہیں۔کیا لڑکوں کے رشتے بھی غیر احمدیوں میں نہ کئے جائیں؟ دوسری تجویز یہ ہے کہ جو احمدی فوت ہو جاتے ہیں ان کے پس ماندگان کی امداد کی کیا صورت ہونی چاہئے۔تیسری یہ کہ احمدیوں کے تنازعوں کو دور کرنے کیلئے پنچائتیں قائم کی جائیں۔نظارت تجارت کی تجاویز پھر نظارت تجارت کی تجاویز ہیں۔قائم کی جائے۔(۱)۔یہ کہ احمدیوں کو بغیر سُو دقرضہ دینے کے لئے انجمن (۲)۔احمدی تاجروں اور اہل حرفہ کے باہمی تعارف کا انتظام کیا جائے۔(۳)۔بے کاروں کے لئے کوئی کام جاری کیا جائے۔یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ جن کے نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کو بہت دقت پیش آ رہی ہے۔ان باتوں پر بھی جلد غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ نتیجہ ہوگا کہ جماعت کے مال کا بڑا حصہ ان بے کاروں کو سنبھالنے کے لئے خرچ کرنا پڑے گا۔پھر نظارت بیت المال کا بجٹ ہے۔یہ بھی بہت اہم ہے۔اس وقت خرچ آمد سے زیادہ ہے۔باوجود اس کے کہ ہر سال خرچ میں تخفیف کی جاتی ہے پھر بھی بجٹ کی آمد اخراجات کو پورا نہیں کر سکتی۔اس وجہ سے اس کے متعلق گہرے غور وفکر کی ضرورت ہے