خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 220

خطابات شوری جلد اوّل ۲۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء تیسرے خلیفہ کے وقت یہ سوال اُٹھایا گیا تو اس کی وجہ سے اُس خلیفہ کو حقیر سمجھا جائے گا اور اس سوال کو بدعت قرار دیا جائے گا۔پہلے بھی بعض لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ میں اپنا گزارہ لوں مگر یہ میرے نزدیک مناسب نہ تھا مگر اب جس طرز پر انہوں نے بات پیش کی ہے بات معقول معلوم ہوتی ہے اس لئے پہلا امر اس دفعہ یہ پیش ہے کہ خلیفہ کے اخراجات کے لئے رقم مقرر ہونی چاہئے۔میں خود کچھ نہیں لیتا سوائے اس کے کہ قرضہ کے طور پر کچھ رقم لوں اور کوشش کروں کہ خود ادا کر دوں اور اگر خود ادا نہ کر سکوں تو میں نے کہا ہوا ہے میری جو جدی جائداد ہے، اُس سے جماعت وصول کر سکتی ہے۔نظارت اعلیٰ کی تجاویز پھر ناظر صاحب اعلیٰ کی دو تجاویز ہیں۔ایک یہ کہ مجلس مشاورت کے لئے دو دن نا کافی ہیں۔ہم مشاورت میں جتنا وقت خرچ کرتے ہیں دنیا کی کوئی پارلیمنٹ اِتنا کم وقت صرف نہیں کرتی۔ہمارے مشورہ طلب معاملات بہت اہم ہوتے ہیں مگر وقت بہت کم صرف کیا جاتا ہے اس لئے نظارت اعلیٰ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کیا مجلس کا انعقاد سال میں دو دفعہ ہوا کرے یا ایک ہی دفعہ ہومگر دو دن کی بجائے چار دن رکھے جائیں۔دوسری تجویز مجلس مشاورت میں شامل ہونے والے نمائندوں کے لباس کے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش تھی کہ ہماری جماعت کا کوئی امتیازی لباس ہو۔اس سے نفسانیت بھی مرتی ہے کیونکہ جس قسم کے لباس کی عادت نہ ہو اُس کا پہننا گراں ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق کئی بار مشورہ لیا مگر کوئی بات طے نہ ہوئی۔اب یہ تجویز ہے کہ کم از کم مجلس مشاورت کے مشیر کوئی خاص نشان لگائیں پھر اسے آگے ترقی دی جائے۔نظارت دعوة و تبلیغ کی تجاویز پھر نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے اہم معاملات پیش ہیں مثلاً اچھوت اقوام میں تبلیغ اسلام۔اس کے متعلق یہ سوچنا ہے کہ یہ کام کس طرح شروع کیا جائے اور کس علاقہ میں کیا جائے۔ہوسکتا ہے کہ نظارت کسی علاقہ میں کام شروع کرے اور وہاں کامیابی نہ ہو جیسا کہ پہلے کام شروع کیا گیا تو جیسی کامیابی ہونی چاہئے تھی ویسی نہ ہوئی۔ہزاروں آدمی اچھوت اقوام کے