خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 214

خطابات شوری جلد اوّل ۲۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کو، اپنے عزیزوں کو ، اپنی اُمنگوں کو ، اپنی آرزوؤں کو ، اپنے خیالات کو اور اپنے ارادوں کو تھوڑا یا بہت اس لئے قربان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔پس اگر باوجود اس کے کہ ہم نے مختلف پہلوؤں سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے قربانیاں کیں، اپنی غفلت سے خدا کی رضا کھو دیں اور دنیا کو ناراض کر کے اپنے مولا کو بھی راضی نہ کر سکیں تو ہم دونوں طرف سے کھوئے گئے اور ہم سے زیادہ بد قسمت روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوسکتا۔پس ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے تمام کاموں میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھیں اور اپنے نفس کو درمیان سے مٹا دیں۔بے نظیر قربانی کی ضرورت خدا تعالیٰ کا ملنا معمولی بات نہیں ہے اس لئے ایسی قربانیوں کی ضرورت ہے کہ جس کی نظیر اور قربانیوں میں نہ ہو۔دُنیا میں بہت سی قربانیاں کی جاتی ہیں اور ایسی ایسی قربانیاں کی جاتی ہیں جن کی تفصیلات معلوم کر کے ایک حساس دل کانپ جاتا ہے اور ایک شعور رکھنے والے انسان کے جسم پر قَشْعَرِيرَہ آجاتا ہے اور اُس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ سب قربانیاں اس لئے کی جاتی ہیں کہ نفس بڑائی اور عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس قسم کی قربانیاں ہمیں نفع نہیں دے سکتیں کیونکہ ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ خدامل جائے بلکہ یہ ہوتی ہے کہ نفس کو عزت حاصل ہو جائے مگر ہم جس غرض کے لئے کھڑے ہوئے ہیں وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔اس لئے ہماری قربانی اُس چیز کی ہونی چاہئے جو دنیا نہیں کرتی کیونکہ جو قربانیاں دُنیا کرتی ہے وہ ہم کو نفع نہیں دے سکتیں اور جس مقصد کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ نہیں پاسکتے۔اگر جان کی قربانی سے خدا تعالیٰ مل جاتا تو بہت لوگ ہیں جو جان کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کو پانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔اگر مال کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سے لوگ ہیں جو مال کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا کو پانے سے محروم رہتے ہیں۔اگر عزت کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سے لوگ ہیں جو عزت کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا کے پانے سے محروم رہتے ہیں۔اگر جائداد کی قربانی سے خدا تعالیٰ مل جاتا تو بہت ہیں جو جائدادوں کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا سے اتنے ہی دُور ہوتے ہیں جتنا ابلیس دُور ہے۔اگر وقت کی قربانی سے یا علم کی قربانی سے یا وطن کی قربانی سے خدامل