خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 211

خطابات شوری جلد اول ۲۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء میں مشورہ لینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ مبلغین کا کرایہ ہے۔ اگر دوست سمجھیں کہ جو لوگ مبلغین بلائیں ۔ اُن کا کرایہ ادا کرنا مناسب ہے تو اس طریق کو جاری رکھا جائے اور اگر اس کا کوئی برا اثر پڑتا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے ۔ کوئی جماعت خود دے دے تو اور بات ہے بل بنا کر اُس سے مطالبہ نہ کیا جائے ۔“ اس پر ۸۴ رائیں اس طریق کو ترک کر دینے کے متعلق اور ۵۱ جاری رکھنے کے متعلق ہوئیں اور حضور نے فرمایا :- دو چونکہ یہ چند روپیوں کا معاملہ ہے اور اس سے بعض قسم کے نقصانات کا بھی خطرہ ہے اس لئے اس طریق کو جانے ہی دینا چاہئے ۔ باقی جو خود دینا چاہے وہ دے دے اس کے لئے کوئی روک نہیں ہے ۔ دعا - میں نے سب دوستوں کے لئے جو باہر سے آئے ہیں یا جو یہاں کے ہیں ان کے لئے بھی اور جو نہیں آئے اُن کے لئے بھی دُعا کر دی ہے اور خدا تعالیٰ سے چاہا ہے کہ سب کو علمی ، روحانی، اخلاقی ترقی عطا فرمائے ۔ اس دفعہ کی مجلس کے متعلق یہ خوشی کی بات تھی کہ دوست پہلے سے زیادہ آئے اور اُمید ہے کہ آئندہ اس سے بھی زیادہ آئیں گے۔ میں نے بعض معاملات پر اظہار نا راضگی کیا تو احباب معافی مانگنے لگ جاتے ہیں۔ مجھے یہ بہت ناپسند ہے۔ وہ فعل اتنا بُرا نہیں جتنا معافی مانگ کر برا بنا دیا جاتا ہے ۔ گویا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اُن کے خیال میں میں اپنے دل میں گرہ ڈال دیتا ہوں اور ہمیشہ کے لئے ان سے ناراض ہو جاتا ہوں میں اس طرح ناراض نہیں ہوا کرتا ہوں کہ ناراض ہوں اور کہوں نہیں اور جب کہوں نہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس فعل کو ناپسند کرتا ہوں مگر ناراض نہیں ہوں اس لئے دوستوں کو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کسی بات کو میں ناپسند کروں اور اُس کے خلاف اپنی رائے ظاہر کروں تو میں ناراض ہو جاتا ہوں ۔ میں تو جس کے متعلق ایسی بات ہو اُس کے لئے دُعا کرتا ہوں کہ اس کی اصلاح ہو۔ اس دفعہ مجلس میں اظہارِ رائے کرنے میں بہت سے دوستوں نے حصہ لیا ہے مگر افسوس ہے کہ زمیندار بھائی کھڑے نہیں ہوئے ۔ حالانکہ وہ بہت اچھی اچھی رائے دے سکتے