خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 210

خطابات شوری جلد اوّل ۲۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء جو نہ کرے وہ احمدی نہیں ہو سکتا۔مگر کوئی اس بات کے لئے مجبور نہیں کہ اپنی رائے بھی دل سے نکال دے۔اس وقت جن دوستوں نے رائے بدلنی ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۷۷ دوست کھڑے ہوئے اور حضور نے فرمایا : - یہ دوست کہتے ہیں اب ہم اس رائے کے قائل نہیں رہے کہ ایک پیسہ بھی اگر کسی کی تجہیز و تکفین کے بعد بچے تو اُسے جائداد سمجھا جائے چونکہ یہ کافی تعداد ہے اس لئے میں اس تجویز کو مسترد کرتا ہوں۔باقی اس وقت یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کیسی جائداد کی وصیت ہونی چاہئے۔اس کے لئے ایک کمیٹی بنا کر غور کرایا جائے گا۔عورتوں کی وصیت کے متعلق بھی اُسی وقت فیصلہ ہوگا۔اختتامی کلمات یہ اچھی بات ہے کہ اس دفعہ معاملات پر لمبی گفتگو ہوئی ہے مگر ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں احباب کو کم از کم پانچ پانچ چھٹیاں لے کر آنا چاہئے تا کہ سب معاملات طے ہو سکیں یا اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ مجلس شوری سال میں دو دفعہ منعقد کی جائے کیونکہ دن تھوڑے ہوتے ہیں اور معاملات بہت زیادہ۔اب میں دُعا پر اس مجلس کو ختم کرتا ہوں آپ لوگ بھی اسلام کی ترقی کے لئے ، اپنے اتحاد و اتفاق کے لئے ، سلسلہ کی مشکلات دُور ہونے کے لئے دُعا کریں۔میں نے اخیر میں اپنی ایک تقریر رکھی تھی مگر وقت نہیں اس لئے صرف اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ چندہ عام میں بہت کمی واقعہ ہو گئی ہے۔آپ لوگ واپس جا کر بقائے صاف کرنے کی کوشش کریں۔بجٹ پورا کریں تا اس قدر آمد بڑھ جائے کہ جو بوجھ بڑھ رہا ہے وہ اتر جائے۔بعض مقامات کے دوست ناراض ہو جاتے ہیں کہ ان کے ہاں مبلغ نہیں بھیجے جاتے مگر یہاں بعض اوقات ایسی صورت ہوتی ہے کہ ۱۵، ۱۵ دن مبلغ کرایہ کے لئے بیٹھے رہتے ہیں، کرایہ نہیں ہوتا کہ ان کو باہر بھیجا جائے۔پھر طبعی ترقی کے لحاظ سے آمد میں اضافہ کی ضرورت ہوتی ہے۔دوست یہاں سے جا کر ایسی روح پیدا کریں کہ غفلت دُور ہو۔مبلغین کا کرایہ اس کے بعد دُعا پر جلسہ ختم کرتا ہوں کیونکہ ابھی دوستوں کو کھانا کھانا ہے اور بہت سے دوستوں کو جلد جانا بھی ہے۔ہاں ایک امر کے متعلق