خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 209

خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء مکرر عرض کرنے پر حضور نے فرمایا : - ایک صاحب نے لکھا ہے کہ رائے بدلنے کی اجازت دی جائے ورنہ ڈر ہے کہ لوگ رائے دینا چھوڑ دیں گے۔میں کہتا ہوں یہ ایک گناہ کے نتیجہ میں دوسرا گناہ ہو گا۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر میں کثرتِ رائے کو رڈ کر دوں تو زیادہ خطرہ ہے کہ لوگ کہیں گے جو بات اپنی رائے کے خلاف ہوتی ہے اُسے رڈ کر دیتے ہیں پھر رائے دینے کا کیا فائدہ۔تو یہ آئندہ مشورہ کو تباہ کرنے والی بات ہوگی۔چونکہ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں ہے اس لئے اس میں آزادی دیتا ہوں دوست اس لئے رائے بدلنا چاہتے ہیں کہ میں ناراض ہو گیا ہوں ، مگر ایسا نہیں ہے اور اس طرح میں اُس آزادی کو قربان نہیں کرنا چاہتا جو خود پیدا کرنا چاہتا ہوں۔سوائے اس کے کہ نص صریح کے خلاف ہو یا نقصانِ عظیم پہنچ سکتا ہو۔یہاں استنباط کا کام ہے اور آپ ہی آپ لوگوں نے اپنی ذمہ واری کا فیصلہ کرنا ہے۔میں نے اظہار اس لئے کیا ہے کہ دوست آئندہ ایسے آراء میں جلد بازی نہ کریں۔میں نے اپنے لئے تو یہ رکھا ہے کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے وصیت نہیں رکھی لیکن ہبہ کرنے سے تو منع نہیں فرمایا اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے احترام کے لئے وصیت تو نہ کروں گا مگر ہبہ ضرور کروں گا تا کہ ہم بھی اس مالی قربانی میں شریک ہوسکیں۔“ احباب نے جب پھر رائے بدلنے کی درخواست کی تو حضور نے فرمایا :- میں دوبارہ اِس معاملہ میں رائے لے لیتا ہوں لیکن اپنی جماعت کے لوگوں سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ آزاد نہ رائے دیں گے محض اس لئے رائے نہیں بدلیں گے کہ میری رائے ان کے خلاف ہے۔میں اپنی کہتا ہوں حضرت خلیفہ اول جب مجھے آزادی رائے دیتے تو پھر میری جو رائے ہوتی خواہ وہ آپ کی رائے کے خلاف ہی ہوتی ، میں نہ بدلا کرتا تھا۔آپ لوگوں نے اگر آزادی سے رائے بدل لی تو خیر ورنہ میں سمجھا کر خطبوں اور دلائل کے ذریعہ قائل کرنے کی کوشش کروں گا اور پھر اگلے سال اس معاملہ کو پیش کیا جائے گا۔66 چاہتا ور نہ ہمارا مشوره ست بچنوں کا سا ہوگا۔میں جماعت میں آزادی کی روح پیدا کرنا ہوں۔جب میں کوئی بات کہوں کہ یوں ہونی چاہئے تو جب تک نص کے خلاف نہ ہو کر و اور