خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 208

خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء السلام نے ان کے متعلق خود یہ فرمایا وہ آپ دیتے ہوئے کہا کرتے تھے میں انجمن کو نہیں دینا چاہتا آپ ہی کو دیتا ہوں۔اس طرح آپ سے ناز کر لیتے تھے۔کئی اور بھی ایسے ہی لوگ تھے۔منشی اروڑے خاں صاحب کو میں نے کئی بار مجبور کیا کہ وہ دفتر میں روپیہ دیا کریں مگر وہ یہی کہتے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جانتے تھے اور اب آپ کے اہلِ بیت کو جانتے ہیں آپ یہ رقم مائی جی کو دے دیں۔آخر جب میں نے مجبور کیا تو کہنے لگے دفتر میں دے دوں گا مگر یہ رقم میں بند نہیں کروں گا یہ اپنے خرچ سے دیتا رہوں گا اسی طرح وہ دیتے رہے اور دسویں حصہ سے بہت زیادہ دیتے تھے۔چوہدری رستم علی صاحب کو یک لخت سو کے قریب ترقی ملی۔وہ ہمیشہ یہ ساری رقم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیتے اور چندہ الگ دیتے۔ایسا شخص اگر وصیت کرنا بھول جائے تو کیا اسے مقبرہ میں دفن نہ کیا جائے گا ؟ اب یہ سمجھنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جائداد کا لفظ لکھا ہے اور جائداد ایک پیسہ بھی ہو تو اُس کی وصیت کر دینی چاہئے درست نہیں۔کیا جنت ٹونا ہے کہ جس نے اُس کے لئے ایک پیسہ دے دیا وہ بھی داخل ہو گیا اور کوئی امتیاز حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ان لوگوں میں امتیاز قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا پانسو روپیہ ماہوار تنخواہ والا اگر اپنے پیچھے ایک روپیہ چھوڑتا ہے اور وہ وصیت میں داخل کیا جاتا ہے تو اُسے کونسا امتیاز حاصل ہو گیا۔میرے نزدیک یہ فیصلہ کرنے میں بالکل اس غور سے کام نہیں لیا گیا جو مناسب اور ضروری تھا اور میں پیلا طوس کی طرح اس سے ہاتھ دھوتے ہوئے اسے منظور کرتا ہوں اور خود بری الذمہ ہوتا ہوں۔مگر یہ کہتا ہوں یہ فیصلہ کرنے والوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔چونکہ یہ ایسے مسائل سے نہیں ہے جو شریعت کے بنیادی مسائل ہیں اس لئے میں کثرتِ رائے کا احترام کرتا ہوا اسے منظور کرتا ہوں۔“ حضور کی اس تقریر کے بعد نمائندگان نے درخواست کی کہ ہمیں اپنی رائے بدلنے کی اجازت دی جائے اس پر حضور نے فرمایا :۔”اگلے سال دیکھا جائے گا۔اب جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔“