خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 205
خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کی وجوہات دریافت کرے۔جو سُست ہوں اُن کو ہوشیار کیا جائے اور جو کم دے اُس سے وجہ دریافت کی جائے اور اگر کسی جگہ سے چندہ زیادہ آ جائے تو اس کی وجہ سے چندہ نہ دینے والوں کی اطلاع مخفی نہ کی جائے۔مثلاً کسی جماعت کا ایک مخلص کسی تقریب پر اکٹھا چندہ دیتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ نہ کہنا چاہئے کہ فلاں جماعت نے اس دفعہ زیادہ چندہ دیا ہے بلکہ سب جماعت کے لوگوں کے چندہ کی رفتار دیکھنی چاہئے ورنہ دھوکا لگ جاتا ہے۔اسی طرح مقامی جماعتیں بھی جب تک اس بات کا خیال نہ رکھیں گی کہ کون کون سست ہیں اور ان کی اصلاح کی کوشش نہ کی جائے گی اُس وقت تک مالی مشکلات دُور نہ ہوں گی۔فیصلہ اس طریق سے اس نقص کو دُور کرنا چاہئے۔موجودہ ریزولیوشن اپنے نقائص کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتا۔“ بت کے لئے جائداد کی تعریف مجلس مشاورت کے دوسرے دن کے دوسرے اجلاس میں سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کی طرف سے " رپورٹ پیش ہوئی کہ قرضہ جات، اخراجات تجہیز و تکفین اور اثاث البیت کے علاوہ جو کچھ بھی ہو خواہ اُس کی تعداد کتنی ہی قلیل ہو ” جائداد تصور ہوگی اور اُس کی وصیت ہو سکتی ہے۔بحث کے بعد جب رائے لی گئی تو ممبران کی اکثریت نے اس کی تائید کی۔اس موقع پر حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- میں اس امر کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رائے دینے والوں نے اس امر پر اس مسئلہ کی بنیاد رکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی اصل بنیاد جائداد پر رکھی ہے اس لئے ہمیں اس کی اتباع کرنی چاہئے لیکن میرے نزدیک یہ دیکھنا چاہئے کہ وصیت کا نفسِ مضمون الہامی ہے یا الفاظ الہامی ہیں؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس بارے میں آپ نے جو الفاظ لکھے ہیں وہ الہامی ہیں تو اس صورت میں ضروری ہے کہ ہر تشریح الفاظ کے نیچے لائی جائے۔مثلاً اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کا جو حصہ مقرر کیا ہے وہ الہامی ہے تو پھر ہمیں اس کے متعلق کسی تشریح کی اجازت نہیں ہے اور اگر وصیت کا نفس مضمون الہامی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ ایک مقبرہ بنایا جائے جس میں وہ لوگ دفن ہوں جو مال خدا کی راہ میں قربان کرنے والے ہوں تو پھر اس کی تشریح ہوسکتی ہے کہ کس