خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 201
خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء دعوت کے منتظموں پر گلہ ہی رہتا ہے حالانکہ دعوت کے موقع پر کئی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔کبھی تو یہ کہ فلاں کو پہلے کسی موقع پر شامل کیا گیا تھا اب چھوڑ دیا جائے اور اس کی بجائے دوسرے کو مدعو کیا جائے۔بعض دفعہ یہ کہ فلاں زیادہ کمزور ہے ٹھوکر نہ کھا جائے اِس خیال سے لے لیا جاتا ہے۔اب اگر میں ایک جماعت کی درخواست پر باہر جاؤں اور دوسری کی درخواست پر کسی وجہ سے نہ جا سکوں تو لازماً شکایت پیدا ہو گی۔یہ تو خلافت کا زمانہ ہے۔حضرت خلیفہ اول نے مجھے ایک جگہ بھیجا ابھی میں وہاں سے واپس نہ آیا تھا کہ میرے متعلق دس درخواستیں آپ کے پاس پہنچ گئیں۔جب میں واپس آیا تو فرمانے لگے میاں! میں تو تمہیں بھیج کر بہت پچھتایا۔اس قسم کی باتوں سے لازماً ایسے نتائج پیدا ہوتے ہیں اس لئے کسی درخواست پر باہر جانا مناسب نہیں ہے۔پھر بے شک میرے باہر جانے کے فوائد ہیں لیکن بعض نقصان بھی ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوست سے بات ختم نہیں ہوتی کہ میں دوسروں کی تألیف قلب کے لئے ان کو مخاطب کر لیتا ہوں۔مگر پھر بھی سب سے بول نہیں سکتا اور اس پر اُن کو شکایت پیدا ہوتی ہے جن سے بات نہیں ہو سکتی اور عشق و محبت کی وجہ سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔اس عشق و محبت کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی یہ بات منظور کرنا کہ کسی درخواست کو منظور کروں ، یہ نہیں ہوسکتا۔اب تو میں کہہ دیتا ہوں کہ کسی کی درخواست بھی منظور نہیں کرتا۔پھر میں نے تو اپنے کسی سفر کا خرچ کبھی نہیں لیا اور نہ آئندہ لینے کے لئے تیار ہوں مگر میں جہاں جاؤں گا وہاں ہزاروں احمدی پہنچیں گے اور اُن کا بہت خرچ ہوگا۔میں جب ولایت گیا تو خیال تھا کہ وہاں کون جائے گا۔مگر چوہدری محمد شریف صاحب وہاں کے لئے بھی ساتھ چل پڑے، میاں علی محمد بھی ساتھ ہو لئے گو چونکہ وہ غریب آدمی تھا اور ساتھ کام کاج بھی کرتا رہا اس لئے میں نے کہا اسے کرایہ دے دو۔پھر حکیم فضل الرحمن صاحب افریقہ سے وہاں آگئے ، ماسٹر محمد دین صاحب امریکہ سے آگئے تو میرے کہیں جانے پر کئی ساتھ جانے والے ہوتے ہیں۔میں ایک دفعہ بمبئی گیا ، اڑھائی ہزار خرچ کا اندازہ لگایا گیا تھا مگر ۵۰ - ۶۰ مہمان روز ہوتے اس طرح چھ ہزار کے قریب خرچ ہو گیا اور میں کئی سال یہ قرض اُتارتا رہا۔مگر اس