خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 200
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء بھی تشریف لے گئے مگر اور ضروریات کی وجہ سے۔مثلاً دہلی والدہ صاحبہ کی صحت کے لئے تشریف لے گئے۔سیالکوٹ والوں نے یہ درخواست کی کہ دعویٰ سے قبل آپ اس جگہ رہے ہیں اب بھی چلئے۔اس غرض کو آپ نے منظور کر لیا اور جب آپ تشریف لے گئے تو پھر آپ سے لیکچر کی درخواست کی گئی اور آپ نے لیکچر دیا۔اسی طرح لاہور ایک دفعہ والدہ صاحبہ کے علاج کے لئے تشریف لے گئے۔دوسری دفعہ بھی کوئی اسی قسم کی وجہ تھی اور اس طرح تشریف لے جانے پر لیکچر بھی ہو گیا مگر خاص لیکچر دینے کے لئے آپ کہیں تشریف نہ لے گئے۔تو بات کا موقع ہوتا ہے۔ابتداء میں تو کپورتھلہ کے احمدیوں نے درخواست کی اور آپ وہاں تشریف لے گئے اور بھی کئی جگہ گئے لیکن اسی طرح اگر آپ آخری ایام میں درخواستیں منظور کرتے تو ایک دن بھی قادیان میں نہ ٹھہر سکتے۔اسی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی جماعت کی درخواست پر اُس کے ہاں نہ جاؤں گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ہماری کئی سو جماعتیں ہیں اور ہر جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے ہاں بلائے۔اب میں کس کس کی درخواست منظور کروں اور کس کی رڈ کروں۔جب کسی کی درخواست منظور ہو جائے اور کسی کی نہ ہو تو اس قسم کے سوال پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں کہ امیروں کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں اور غریبوں کی نہیں حالانکہ میرے نزدیک سب برابر ہیں۔میں نے اپنے ولیمہ کے متعلق تجربہ کیا ہے کہ کس طرح شکایات پیدا ہوتی ہیں۔میں نے اپنے ذاتی اخراجات کے لحاظ سے چار سو ساڑھے چارسو روپیہ لگا کر دعوت کی اور دعوت کھانے والوں میں ایسے لوگوں کو بھی بلایا گیا جو اپاہج تھے، روزانہ مانگ کر کھانا کھاتے ہیں اور کئی ایسے تھے جن کی ایک پیسہ بھی آمدنی نہیں، بہت سے غرباء اور مساکین بلائے گئے مگر باوجود اس کے میرے پاس کئی رفعتے آئے کہ جن کو آپ دعوت پر مقرر کرتے ہیں وہ امیروں کو چن لیتے ہیں اور ہم غریبوں کو نہیں پوچھتے۔یہ رفعے لکھنے والوں میں کوئی دُکاندار تھا اور کوئی اور کام کرنے والا۔وہ محبت اور اخلاص سے لکھتے کہ ہمیں کھانے کا تو کوئی افسوس نہیں اور یہ ٹھیک بھی تھا مگر وہ میری مجبوری نہ دیکھتے تھے۔میں زمین سے خزانہ نہیں کھودتا اپنے پاس سے جو خدا نے دیا خرچ کرتا ہوں۔بعض دفعہ مجھ پر قرضہ ہو جاتا ہے مگر ان کو۔