خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 199

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء حدیث میں آتا ہے ایک صحابی کدو بڑے مزے سے کھا رہا تھا۔میزبان نے کہا کیا اور لاؤں آپ کو کرو بہت پسند ہیں؟ صحافی نے کہا مجھے پسند نہیں میں تو اس لئے کھا رہا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ وآلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا۔یہ اُس صحابی کا اخلاص تھا ، محبت تھی ، مگر اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ پر عمل نہیں کہیں گے۔یہ کہیں گے کہ وہ صحابی عشق میں مخمور تھا۔اس واقعہ سے عشق کی روح کی طرف توجہ دلائی جائے گی مگر اسے اُسوہ نہیں کہہ سکتے۔مگر میں اُن اصحاب سے متفق ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لئے باہر تشریف لے جانا اُسوہ تھا کیونکہ یہ آپ کا اپنی ذات کے متعلق فعل نہ تھا بلکہ تبلیغ تھی۔مگر اُسوہ کے لئے بھی حالات ہوتے ہیں اور ہر اُسوہ حالات کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے اُسوہ کی بھی حد بندی ضروری ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ اُسوہ تھا کہ نماز پڑھتے ہوئے اگر بچہ پاس کھڑا روتا ہو تو اُسے کندھے پر اُٹھا لیا۔اب اس کے لئے ایسے ہی حالات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز پڑھ رہے ہوں اور بچہ کہیں دور رو رہا ہو تو دوڑے دوڑے جائیں اور جا کر بچہ کو اُٹھا لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ اُسوہ کہ آپ تبلیغ کے لئے باہر تشریف لے جاتے اُس وقت کا ہے جب تبلیغ کا حلقہ بہت محدود تھا اور تبلیغ کے ذرائع بہت کم تھے ایسی حالت میں جو ذرائع میسر ہوں اُنہی سے کام لیا جائے گا۔آپ کو جب انذار کا حکم ملا تو آپ کے ساتھ صرف چند آدمی تھے اُس وقت آپ مکہ والوں کے پاس گئے کہ اُن کو سمجھا ئیں کیونکہ اُس وقت آپ کی ایسی پوزیشن نہ تھی کہ لوگ آپ کے پاس آئیں۔یہ کی زندگی تھی جبکہ جماعت نہ تھی یا بہت کم تھی۔مگر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے جماعت ساتھ ہوگئی تو پھر آپ انذار کے حکم پر لوگوں کے پاس نہیں جاتے کیونکہ اُس وقت لوگ آپ کے پاس آسکتے تھے۔آپ کی وقعت اور عزت قائم ہو چکی تھی اِس وجہ سے آپ کو خود جانے میں وقت صرف کرنے کی ضرورت نہ تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھو حضرت مسیح موعودا بتداء میں کئی مقامات پر تشریف لے گئے تا کہ تبلیغ کریں مگر پھر بعد میں جب تبلیغ کا کام وسیع ہو گیا اور اور ذرائع پیدا ہو گئے تو لوگوں نے چاہا بھی مگر آپ تشریف نہ لے گئے۔کئی مقامات پر آپ بعد میں